کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 259
لی وہ اسے جہنم میں جھونک دیں گے۔ وہ لوگوں کو اس تہذیب کی طرف دعوت دیتے ہیں اور گویا یہ جانتے ہی نہیں کہ خود اہلِ مغرب کے دانشمند لوگوں کی چیخ و پکار بلند ہو رہی ہے اور ان کی صدائیں اٹھ رہی ہیں جو اس تہذیبِ نو کے خطرات ونقصانات بیان کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہ روحانیت سے قطعی عاری تہذیب ہے۔ وہ اسے ترک کرنے کی دعوت دے رہے ہیں اور پانی سر سے گزرنے سے پہلے پہلے لوگوں کو اصلاح کی طرف بلا رہے ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ . اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لَکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۱، ۱۲] ’’جب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کر رہے ہیں، حالانکہ خبردار رہو کہ وہی ہیں فساد کرنے والے مگر وہ اس بات کا شعور نہیں رکھتے۔‘‘ ہماری ذمے داریاں: تمام مسلمان حکمرانوں اور عوام پر واجب ہے کہ وہ اس تہذیبِ مغرب کے بنیادی اصولوں، اس کے اغراض و مقاصد، اہداف و غایات، اضرار و نقصانات اور اس سے جڑے تمام خطوط کے بارے میں معلومات رکھیں اور اپنے ملکوں اور پھر اپنے گھروں میں ان کی بری عادات، اخلاقِ بد اور رسومِ جاہلیت کو داخل نہ کریں، جنھیں ان کے دشمنوں نے محض اس لیے بنا سنوار کر ان کے سامنے رکھ دیا ہے، تاکہ وہ انھیں گمراہ کر یں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ ثَلَاثَۃٌ: مُلْحِدٌ فِيْ الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِيْ الْإِسْلَامِ سُنَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ، وَمُطَلِّبُ دَمِ امْرِیٍٔ بِغَیْرِحَقٍّ لِیُھْرِیْقَ دَمَہٗ )) [1] ’’اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں سے بد ترین تین قسم کے لوگ ہیں: حرم شریف میں الحاد و جرم کا ارتکاب کرنے والا، اسلام میں عہدِ جاہلیت کے رسم و رواج کو چاہنے والا، اور کسی کا خون بہانے کے لیے ناحق طور پر خون کا مطالبہ کرنے والا۔‘‘ مسلمانو! تمھارے پاس وہ شریعت ہے جو رب کائنات کی عطا کردہ ہے۔ جو شخص اس کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے، یہ اس کے لیے بقا و ارتقا اور عروج و رفعت کی ضمانت دیتی ہے۔ ایسی [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۸۸۲)