کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 257
کیا جا رہا ہے جو کفر اور فسق و فجور کے اڈے ہیں، جو عقلوں کو دھوکا دینے اور دماغوں سے غداری کرنے کی شیطانی مہارت رکھتے ہیں، جہاں ہلاکت و تباہی اور ہاؤ ہو میں گزرنے والی بے کار آوارہ زندگی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ دعوتِ گناہ سے بھر پور ایڈورٹائزمنٹ، فریب بردوش آسانیاں کہ دل ان بلادِ فسق و فجور کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔ دل کو پارہ پارہ کرنے والی بات تو یہ ہے کہ بعض مسلمان اپنی بیویوں، جوان بیٹیوں اور دل کے ٹکروں یا جگر گوشوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں اور پھر وہاں جو کچھ ہوتا ہو گا کچھ نہ پوچھیں تو بہتر ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے تاکہ ہم بھی اسی تہذیب کا جزو بن سکیں اور اہلِ مغرب کے شانہ بہ شانہ چل سکیں!! بچاؤ کا راستہ: یہ غرق کر دینے والے فتنے اور ہلاکت خیز گناہ ہیں، جن سے بچاؤ کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی کتابِ مقدس قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مطہرہ کا دامن۔ مسلمانو! ہماری امتِ اسلامیہ کس طرح راضی خوشی سر جھکائے اپنے حملہ آور دشمن کی طرف بڑھے جا رہی ہے؟ یہ بکری بنے قسائی کے ساتھ رضا مندی سے سوے مقتل کیسے چلے جا رہی ہے؟ یہ کس طرح اپنے دشمن کے اخلاق و کردار اور اس کے فہم و افکار کی پیروی کر رہی ہے؟ یہ اسلامی تعلیمات اور سرورِ عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت سے اعراض و روگردانی کر کے کافر و فاجر لوگوں کے پیچھے کیسے بھاگی چلی جا رہی ہے؟ خسارہ اور ہلاکت و تباہی تو کفار و فجار کی پیروی کرنے میں ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلیٰٓ اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ﴾ [آل عمران: ۱۴۹] ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم ان لوگوں کی پیروی کرو گے جو کافر ہیں تو وہ تمھیں ایڑیوں کے بل (کفر کی طرف) لوٹا دیں گے اور تم بہت خسارے والے ہو کر پھرو گے۔‘‘ نیز ارشاد ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ