کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 254
پر دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں اور (دل سے) چاہنے لگیں کہ تم بھی کفر کرنے لگ جاؤ۔‘‘ یہ کفار یہی چاہتے ہیں اور انھی اغراض و مقاصد کو پانے کے لیے وہ ہردم کوشاں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خصلتِ بد کے بارے میں فرمایا ہے: ﴿ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ﴾ [البقرۃ: ۲۱۷] ’’وہ تم سے لڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ اگر کر سکیں تو تمھیں تمھارے دین سے پھیر دیں۔‘‘ اور ارشادِ ربانی ہے : ﴿ وَ لَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ﴾ [البقرۃ: ۱۲۰] ’’یہ یہود و نصاری آپ سے کبھی خوش نہ ہوں گے، جب تک کہ آپ ان کی ملت کے تابع نہ ہو جائیں۔‘‘ اور اﷲ نے اپنے نبی محمد مصطفی سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے: ﴿ وَ اِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہٗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْکَ خَلِیْلًا﴾ [الإسراء: ۷۳] ’’یہ لوگ آپ کو اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے بہکانا چاہتے ہیں کہ آپ اس کے سوا کچھ اور ہی ہمارے نام سے گھڑ گھڑا لیں، تب تو آپ کو یہ لوگ اپنا دلی دوست بنا لیتے۔‘‘ ان کفار کے دلوں میں اسلام کے خلاف بغض و کینہ چھپا ہوا ہے اور ان پر ایک خوف ساطاری رہتا ہے، اسی بنا پر وہ اسلام اور اہلِ اسلام کے ساتھ برسرِ پیکار رہتے اور اسلام کو مٹانے کے لیے ہر وقت پر تولے کھڑے رہتے ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ﴾[الصف: ۸] ’’یہ کافر چاہتے ہیں کہ یہ اللہ کے نور کو پھونکوں سے بجھا دیں، جبکہ اللہ اپنے نور کو پورا