کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 252
درماندہ ہے۔ یہ ایک ایسی تہذیب ہے جس میں حلال و حرام اور فائدہ مند و ضرر رساں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بازار ٹھنڈے، کلب زوروں پر اور دل پژمردہ و پریشان ہیں۔ یہ انتہائی مایوس کن تہذیب ہے جو اپنے ہی افراد کی حمایت و حفاظت سے عاجز ہے، یہ ایک دن کے لیے بھی اپنے افراد کی عزت و آبرو کا تحفظ کر سکی، نہ ان کے آنسو پونچھ سکی اور نہ ہی انھیں ایک دن کے لیے ہی پر سکون زندگی مہیا کر سکی۔ یہ تہذیب تنگدستی، اجیرن زندگی، بد بختی، پریشانی اور کرب و بلا کی تہذیب ہے جو دراصل شریعتِ الٰہیہ سے روگردانی کرنے والوں کی سزا ہے۔ کھیل تماشے اور سیاحت و تفریح کے وسائل اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ہی ممکن نہیں، اور یہ سب اس لیے ہے کہ قلق و اضطراب سے نجات حاصل کی جاسکے، مگر ایں خیال است و محال است و جنوں۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللّٰہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴾ [الأنعام: ۱۲۵] ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو غلاظت و گندگی اور ناپاکی سے لت پت کر دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔‘‘ اسی تہذیبِ مغرب نے نئی نئی مصنوعات اور ایجادات دنیا کو دیں، مگر اس نے جو چیز بھی بنائی اپنی تباہی کے لیے ہی بنائی، بلکہ اپنی تباہی و ہلاکت کا سامان کرنے پر یہ تہذیب سبقت لے گئی۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اِنْ یُّھْلِکُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ﴾ [الأنعام: ۲۶] ’’یہ نہیں ہلاکت میں ڈالتے مگر اپنے آپ کو۔‘‘ نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ اِِنْ ھُمْ اِِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا﴾ [الفرقان: ۴۴] ’’کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا عقل رکھتے (سمجھتے) ہیں، وہ تو جانوروں جیسے بلکہ ان سے بھی زیادہ بد راہ ہیں۔‘‘ اور فرمایا: