کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 251
دوسرا خطبہ مغربی تہذیب و تمدن کا فتنہ امام و خطيب: فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اللہ کے بندو! تقوی اختیار کرو، کیونکہ اس کا تقوی ہی بہترین کمائی ہے اور اس کی اطاعت ہی اعلی حسب و نسب ہے۔ اس کا تقوی اختیار کرو، روزِ آخرت میں خیر کے امیدوار رہو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴾ [آل عمران: ۱۰۲] ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا صحیح حق ہے، اور تمھیں موت نہ آئے، سوائے اس کے کہ تم مسلمان ہو۔‘‘ تہذیبِ مغرب کی یلغار: مسلمانو! آج اہلِ اسلام ایک زبردست مقابلے سے دو چار ہیں، ان پر ماڈرن اندازِ زندگی اور مغربی تہذیب نے یلغار کر دی ہے، جو روحانیت سے عاری سراسر مادی، گھٹیا درجے کی خالص دنیاوی تہذیب ہے، یہ اسلامی آداب و اخلاق اور عمدہ قدروں سے بھی تہی دست ہے، وہ تہذیب جو سراسر دھوکا اور نری تباہی ہے، جس کی تپش اس تہذیب کو بنانے والوں نے خود سینک لی ہے، اس کی تباہیوں اور بربادیوں کا مزہ وہ خود چکھ چکے ہیں، جو محض بلا ومصیبت، بد بختی، فسق و فجور، اضطراب و پشیمانی، ہتکِ عزت و آبرو ریزی، خود کشی، اغوا، حرام طریقے سے استقرار پا جانے والے حمل کا آپریشن، غیر فطری شہوت رانی اور مختلف نشوں میں دھت رہنے کا دوسرا نام ہے۔ لوگ جادۂ حق سے ہٹ چکے ہیں۔ اب سارا معاملہ ہی الٹ چکا ہے۔ جسم ماندہ اور عقل