کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 249
’’میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب ان کی زیارت کیا کرو۔‘‘ آپ جب قبر کی زیارت کریں گے تو موت یاد آئے گی، مُردوں کے لیے سلامتی اور مغفرت کی دعائیں کریں گے اور آپ وہاں کھود کر تیار کی گئی قبروں کو دیکھیں گے جن میں سے کسی ایک میں ایک دن تم نے بھی جانا ہی ہوگا۔ جب بھی دل پر غفلت چھانے لگے اور آپ کی طبیعت میں دنیا کی کشش کا غلبہ ہونے لگے تو قبرستانوں کی طرف نکل جایا کرو اور ان لوگوں کے بارے میں غور و فکر کیا کرو جو کل تک آپ کی طرح ہی اس دنیا میں کھاتے پیتے اور دنیا کی عیش و عشرت میں تھے، آج وہ کہاں جا بسے ہیں؟ وہ آج اپنے اعمال کے دستِ نگر ہو چکے ہیں، آج انھیں اپنے کیے ہوئے اعمالِ صالحہ کے سوا کوئی چیز کام نہ دے گی۔ زیارتِ قبور انسان کو موت کے بعد والے حالات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ اس وقت کے لیے عملِ صالح کر کے تیاری کرتا اور یاد کرتا ہے کہ اللہ کے پاس اس کے لیے قیامت کے دن کیا ہے؟ وہ اپنی تمام تر قوتیں اس بات پر صرف کرنے لگتا ہے کہ وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ سے کیسے چھٹکارا پا سکتا ہے؟ تب جا کر وہ ہر تقصیر پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور اللہ کی جناب میں جو بھی کوتاہی کی ہوتی ہے، اس پر اپنے آپ کو کوستا ہے۔ زیارتِ قبور کے لیے رختِ سفر باندھنا؟ زیارتِ قبور کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کے لیے دور دراز کا سفر اختیار کیا جائے، قبروں کی مٹی پر لوٹ پوٹ ہوا جائے، ان کا طواف کیا جائے، مزاروں کو چھوا اور چوما چاٹا جائے، ان کے لیے نذرانے اور تحائف پہنچائے جائیں، مُردوں کو پکارا جائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر دعائیں مانگی جائیں، یہ سب ناجائز امور ہیں ۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکیات کے سدِ باب کے لیے قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اور جب صحابہ کے دلوں میں توحید خوب رچ بس گئی تو انھیں جائز طریقے سے زیارتِ قبور کی اجازت دے دی۔‘‘[1] اگر کسی نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ طریقے کو چھوڑ کر اپنے اختیار کردہ طریقے کے [1] إغاثۃ اللھفان (۱/ ۲۰۰)