کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 248
﴿ وَاِِنْ قِیْلَ لَکُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا ھُوَ اَزْکٰی لَکُمْ﴾ [النور: ۲۸] ’’اگر تمھیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ، یہی بات تمھارے لیے پاکیزہ ہے۔‘‘ اجازت نہ ملنے سے آنے والا کچھ بد دل سا ہو کر لوٹتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ یہی تمھارے لیے پاکیزہ بات ہے، لہٰذا ناراض ہونے، تکلیف محسوس کرنے اور افسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ تمھارے لیے دروازہ کیوں نہ کھولا گیا، کیونکہ لوگوں کے کئی اسرار و بھید اور عذر ہیں، ہمیں چاہیے کہ انھیں معذور سمجھیں۔ اخلاقِ اسلامیہ: یہ اسلامی تربیت ہے جو لوگوں کی اجتماعی زندگی کا دھارا موڑ دیتی ہے اور ان میں انتہائی پاکیزہ شعور اور نہایت عمدہ احساسات نیز اخلاقِ فاضلہ و عالیہ کے خالص و صادق جذبات کو جنم دیتی ہے۔ اللہ چاہتاہے کہ وہ ایسی امت بنائے جن کے سینے صاف، دل پاک، احساسات انتہائی مہذب اور تصورات انتہائی صاف ستھرے ہوں ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَنْ عَادَ مَرِیْضاً أَوْ زَارَ أَخًا لَہٗ فِيْ اللّٰہِ نَادَاہُ مُنَادٍ أَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاکَ، وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّۃِ مَنْزِلاً )) [1] ’’اگر کوئی شخص کسی بیمار کی عیادت کرے یا اپنے کسی مسلمان بھائی کی زیارت کرے تو اللہ کی طرف سے منادی کرنے والا یہ منادی کرتا ہے کہ تم عمدہ ہوئے اور تمھارا چلنا عمدہ ہوا اور تم نے اپنے لیے جنت میں مکان بنا لیا۔‘‘ مستحب زیارتیں: مستحب زیارتوں میں سے صرف مردوں کے لیے زیارتِ قبور ہے، جو دلوں میں رقت اور نرمی پیدا کرتی ہے اور دنیا میں زہد اختیار کرنے کا داعیہ دلوں میں جنم لیتا ہے۔ یہ عبرت و نصیحت پیدا کرتی ہے اور غرور کا سر توڑتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی ترغیب دلائی ہے اور ارشاد فرمایا ہے: (( نَھَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْھَا )) [2] [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۰۰۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴۴۳) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۷۷)