کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 246
(2) فضول ملاقاتیں: لا یعنی قسم کی زیارت و ملا قات کی کثرت فضول گوئی، چغلی و غیبت اور ناجائز کھیل تماشوں کی شکل اختیار کر جانے کا باعث بن جاتی ہے ۔ بعض رشتے داروں کی باہمی زیارت اور میل ملاپ اتنی عام ہو جاتی ہے کہ ان میں عرفِ عام اور عادت بن جاتی ہے کہ خواتین اور ان کے رشتے داروں کے بکثرت میل جول کے نتیجے میں بعض فتنے سر اٹھاتے ہیں اور شیطان کے لیے بڑے بڑے دروازے کھول دیتے ہیں ۔ (3) اجازت طلب کرنا: وہ شرعی آدابِ زیارت جن کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو تعلیم دی ہے، ان میں سے ایک بلند ترین ادب: اجازت طلب کرنا ہے، تاکہ گھروں کی حرمت و احترام قائم رہے اور اس کے ذریعے تہذیبِ نفس بھی ہو۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے صحابہ کو طلبِ اجازت کا ادب سکھلایا کرتے تھے۔ قبیلہ بنی عامر کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینا چاہی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف فرما تھے اور عرض کی: کیا میں گھر میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: (( أُخْرُجْ إِلیٰ ھٰذَا فَعَلِّمْہُ الْإِسْتِئْذَانَ، فَقُلْ لَہٗ: قُلْ: اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ، أَأَدْخُلُ؟ )) [1] ’’جاؤ اس آدمی کو اجازت لینے کا صحیح طریقہ بتاؤ کہ وہ یو ں کہے: السلام علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اس صحابی نے یہ بات سن لی اور فوراً تعمیلِ ارشاد کی اور کہا: السلام علیکم، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ تب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دی اور وہ اندر داخل ہوا۔‘‘ گھروں کی عزت و احترام اور حرمت کا تو یہ عالم ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے دروازے کے کسی سوراخ سے اندر جھانک رہا ہو اور اندر سے کسی طرح اس کی آنکھ پھوڑ دی جائے تو اس کی آنکھ کی کوئی قیمت نہیں ہو گی، چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۱۷۷)