کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 245
(( وَجَبَتْ مُحَبَّتِيْ لِلْمُتَحَابِّیْنَ فِيَّ، وَالْمُتَجَالِسِیْنَ فِيَّ، وَالْمُتَزَاوِرِیْنَ فِيَّ، وَالْمُتَبَاذِلِیْنَ فِيَّ )) [1] ’’ان لوگوں کے لیے میری محبت واجب ہو گئی جو میری رضا کے لیے باہم محبت کرتے، باہم مل بیٹھتے ہیں، باہم زیارت و ملاقات کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی ہر گز نہیں کرتا۔ وہ تمھیں اپنی محبت سے نواز دے گا، لیکن تب جب تم اللہ کی رضا کے لیے اپنے کسی بھائی کی زیارت کرو گے۔ آدابِ زیارت و ملاقات: زیارت و ملاقات کے کچھ آداب ہیں جن کی رعایت رکھی جائے تو میل جول صحیح بنیاد پر قائم ہو گا، زیارت کے اغراض و مقاصد مثلاً مودت و محبت کی روح کو پھیلایا جا سکے گا اور اجر و ثواب اور فائدہ بھی ملے گا۔ (1)مناسب دن اور وقت: زیارت کے اہم ترین آداب میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی مناسب دن اور دن کا بھی کوئی مناسب وقت تلاش کیا جائے۔ بلا اجازت گھروں پر جا دھمکنا اسلامی آداب و اخلاق کے منافی فعل ہے۔ واجب زیارتوں کو چھوڑ کر عام مستحب زیارتیں اگر طویل اور بکثرت ہو جائیں تو وہ بھی اکتاہٹ کا باعث ہو جاتی ہیں، وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور مہمان بھاری لگنے لگتا ہے اور اس سے محبت کم ہو جانے کا بھی امکان ہوتا ہے ۔ اچھی گفتگو اور اچھا استقبال اس بات کا باعث نہیں بنا لینا چاہیے کہ آپ وہاں لمبے ہی ہو جائیں اور لمبی لمبی گفتگوئیں شروع کر دیں۔ میزبان اگر علما وغیرہ جیسا کوئی ذمہ دار شخص ہو تو یہ بات اور بھی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ذمہ داریاں بکثرت ہونے کی وجہ سے ان کے اوقات پہلے ہی بڑے تنگ ہوتے ہیں، ان کے اوقات بڑے قیمتی ہوتے ہیں اور ان کی زندگیوں کا ایک ایک لمحہ بڑا قیمتی ہوتا ہے، لہٰذا تمام تر بھلائی اسی میں ہے کہ اوسط درجے کو اختیار کیا جائے، یعنی نہ یہ ہو کہ فقط سلام کیا اور چل دیے اور نہ یہ کہ ڈیرے ڈال کر بیٹھ ہی گئے۔ [1] موطأ الإمام مالک، رقم الحدیث (۶۷۱۱) مسند أحمد (۵/ ۲۳۳)