کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 243
سے پیش آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر غور کریں، جس میں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( أَنَا وَ کَافِلُ الْیَتِیْمِ فِي الْجَنَّۃِ ھٰکَذَا )) و أشار بالسبابۃ و الوسطی و فرّج بینھما شیئا۔[1] ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح اکٹھے ہوں گے۔‘‘ اور یہ بتاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا اور ان دونوں کے درمیان معمولی سا فاصلہ رکھا۔‘‘ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’یتیم کی کفالت کرنے والا وہ ہے جو اس کے نان و نفقہ وغیرہ کی ذمے داری اٹھائے ہوئے ہو۔‘‘[2] اہلِ علم و تقویٰ کی زیارت: یہ انتہائی بار آور زیارت ہے۔ اہلِ علم وفضل، اصحابِ خیر و صلاح اور اربابِ ورع و تقویٰ کی زیارت کر کے ان کی عبادات، ان کے زہد، ان کے وقار اور ان کی خشیتِ الٰہی کو دیکھ کر اپنے لیے مشعلِ نوربنایا جا سکتا ہے۔ امام ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میں جب فضیل رحمہ اللہ کی طرف دیکھتا ہوں تو میری حزن کی کیفیت تازہ ہو جاتی ہے اور میں اپنے آپ کو ناپسند کرنے لگتا ہوں۔ انھوں نے اتنا کہا اور رو دیے۔‘‘[3] اپنے ہم عصر علما کی زیارت و ملاقات کے ساتھ ہی آپ گزرے ہوئے علما ر حمہم اللہ سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں جو اس طرح ممکن ہے کہ تاریخ اور سیرت و سوانح کی وہ کتابیں پڑھیں جن میں متقدمین علما کے تذکارِ جمیل پائے جاتے ہیں۔ عام مسلمان بھائیوں کی زیارت و ملاقات: اللہ کی رضا کے لیے عام مسلمانوں کی باہمی زیارت و ملاقات ایک دوسرے کے دل میں [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۳۰۴) [2] شرح صحیح مسلم للنووي (۸/ ۱۱۳) [3] تاریخ دمشق (۴۸/ ۳۸۹) تھذیب التھذیب (۸/ ۲۶۵)