کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 242
’’قیامت کے دن اللہ تعالی کہے گا: اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو تم نے میری عیادت نہیں کی؟ وہ کہے گا: اے اللہ! میں تیری عیادت کیسے کرتا تو تو سارے جہانوں کا پروردگار ہے؟ اللہ کہے گا: تمھیں پتا نہ چلا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے مگر تو نے اس کی عیادت نہ کی، تمھیں معلوم نہیں کہ اگر تم اس کی عیادت کے لیے جاتے تو مجھے بھی وہاں ہی پاتے؟‘‘ اے مسلمان! کیا اب بھی تم اس سے مستغنی ہو سکتے ہو کہ بیمار کی عیادت کرکے اللہ کی رحمتوں کو سمیٹ لو، تاکہ یہ عیادت تمھارے گناہوں کی مغفرت و بخشش کا سبب بن جائے؟ اگر تم مریض کے پاس جاتے ہو تو اس کا مرض کم ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کی تیمار داری کے لیے تشریف لے جاتے تو اس کے پاس جاکر فرماتے: (( لاَ بَأْسَ طَہُوْرٌ إِنْ شَآئَ اللّٰہُ )) [1] ’’کچھ فکر نہ کرو، کیونکہ یہ بیماری اللہ نے چاہا تو تمھارے گناہوں سے طہارت کا باعث ہے۔‘‘ بیمار کی عیادت کے دوران اسے نصیحت کریں کہ شفا کی امید صرف اللہ سے رکھیں اور اسے یاد دلائیں کہ اللہ ہی شفا دینے والا ہے، نیز اسے بتائیں کہ جو قسمت میں لکھی ہو وہ تکلیف ٹل نہیں سکتی اور جو نہ لکھی ہو وہ پہنچ نہیں سکتی، اس کے ساتھ اسے صبر و رضا اور اللہ کی قضا پر خوش رہنے کی بھی تلقین کریں۔ تعزیت کے لیے ملاقات: کسی فوت شدہ شخص کی تعزیت کے لیے اس کے گھر والوں کی زیارت کرنی چاہیے، کیونکہ یہ بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے، حتی کہ سیدنا عمرو بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یُعَزِّيْ أَخَاہُ بِمُصِیْبَۃٍ إِلَّا کَسَاہُ اللّٰہُ مِنْ حُلَلِ الْکَرَامَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )) [2] ’’کوئی مومن اگر اپنے کسی بھائی سے تعزیت کرے اور اس کی مصیبت پر اسے تسلی دے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے عزت و کرامت کا لباس پہنائے گا۔‘‘ یتیموں کی زیارت: زیارت کی اقسام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یتیموں کی زیارت کریں اور ان کے ساتھ شفقت و پیار [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۶۵۶) [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۶۰۱)