کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 241
’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کوحکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔‘‘ پڑوسیوں کی زیارت: زیارت کی مختلف اقسام میں سے ایک قسم پڑوسیوں کی زیارت بھی ہے، تاکہ ان کے حالات کی خبر گیری کی جا سکے، کسی معاملے میں ان کے ساتھ تعاون کیا جائے اور ان کی خوشی و غمی میں شرکت کی جا سکے۔ پڑوسی کے حقوق کی عظمت اور ان کے مقام و مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( مَا زَالَ جِبْرِیْلُ یُوْصِیْنِيْ بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنَّہٗ سَیُوَرِّثُہٗ )) [1] ’’جبریل علیہ السلام مسلسل مجھے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں وصیت کرتے رہے حتی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید یہ پڑوسی کو وارث ہی بنا دیں گے۔‘‘ بیماروں کی مزاج پرسی اور زیارت: ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی پر یہ حق ہے کہ جب وہ بیمار ہو تو اس کی مزاج پرسی کرے۔ اس عیادت اور مزاج پرسی کے بیمار کی طبیعت پر بڑے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ عیادت اس کے دل کو مطمئن کرتی، اس کے سینے کو کھولتی، اسے بیماری کی اذیت کا احساس کم کرنے میں مدد دیتی اور اس کی تکلیفوں میں تخفیف کا باعث بنتی ہے، خصوصاً جب عیادت کے دوران ہی مریض کے لیے دعائیں بھی کی جائیں۔ بیمار کی عیادت و بیمار پرسی میں سستی کرنا حقوق اللہ میں سے ایک حق میں سستی و کوتاہی کرنے کے برابر ہے، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: یَا ابْنَ آدَمَ! مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِيْ؟ قَالَ: یَا رَبِّ! کَیْفَ أَعُوْدُکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ! قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيْ فُلَاناً مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْہُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّکَ لَوْ زُرْتَہٗ لَوَجَدتَّنِيْ عِنْدَہٗ )) [2] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۰۱۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۲۴) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۶۹)