کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 239
سے لوگوں کو غفلت میں مبتلا کر رکھا اور انھیں یہ بھلا رکھا ہے کہ اولین فرصت میں انجام دینے والے کام کون سے ہیں۔ انھوں نے مباحات اور صرف جائز امور کو اولیت دے رکھی ہے اور واجبات و مستحبات کی حیثیت ان کے نزدیک ثانوی ہو گئی ہے۔ ذرائع اِبلاغ نے بھی بعض لا یعنی امور کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر رکھا ہے کہ اس کے نتیجے میں بعض واجب و مستحب حقوق سے بے پروائی کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ والدین کی زیارت: اس بات سے کسے انکار ہے کہ والدین کی زیارت و ملاقات والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حصہ ہے۔ ان کی مسلسل زیارت کی جائے اور ان کے حقوق ادا کیے جائیں، ان کے حال احوال کی خبر رکھی جائے ، انکے ساتھ تعاون کیا جائے، ان کی ضروریات پوری کی جائیں اور ان کی خدمت کے ساتھ ساتھ ان سے محبت و عزت کا رویہ اپنایا جائے۔ کام کاج اور مصروفیات چاہے کتنی ہی کیوں نہ ہو جائیں، اولاد کو اس بات کی ہر گز اجازت نہیں ہے کہ وہ والدین سے میل ملاقات سے غفلت برتیں۔ محض وقتی کشش والی اشیا کے پیچھے لگ کر ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے غفلت نہیں برتنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا بہت بڑا مقام بیان فرمایا ہے اور ان کے حقوق ادا کرنے کو واجب قرار دیا ہے، اس لیے ان کی عزت و تکریم انتہائی ضروری ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿ وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّ لَا تَنْھَرْ ھُمَا وَ قُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا . وَ اخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا﴾ [الإسراء: ۲۳، ۲۴] ’’اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ، اگر وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک آپ کے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو انھیں اف تک نہ کہو، اور نہ ان کے ساتھ سختی سے بات کرو، بلکہ ان کے ساتھ انتہائی نرم لہجے میں بات کرو اور ان کے سامنے انتہائی تواضع اور رحم دلی سے رہو، اور یہ دعا کرتے رہو کہ اے اللہ! ان دونوں پر تو بھی اسی طرح رحم