کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 238
اسوۂ حسنہ: یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی زیارت کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مسلسل زیارت فرماتے تھے۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’میں نے جب ہوش سنبھالا تو دیکھا کہ میرے والدین دینِ اسلام کے ماننے والے ہیں، تب سے کبھی کوئی ایسا دن نہیں گزرا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر نہ آئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر صبح و شام روزانہ دو مرتبہ قدم رنجہ فرمایا کرتے تھے۔ ایک دن ہم بیٹھے تھے کہ کسی نے ظہر کے وقت کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، حالانکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آیا کرتے تھے۔‘‘[1] اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری صحابی کے گھر جا کر ان کی زیارت کی اور ان کے ہاں کھانا تناول فرمایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لے جانے کا ارادہ فرمایا تو حکم دیا کہ گھر میں ایک جگہ پر چٹائی بچھائی جائے، چنانچہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی اور اہلِ خانہ کے لیے دعاے خیر کی۔‘‘[2] اقسامِ زیارت: زیارت و ملاقات کی کئی قسمیں ہیں، ان میں سے بعض واجب و ضروری ہیں اور مستحب و نفل ہیں۔ یہ ایسے حقوق ہیں کہ تمام مخلوق اس کے اقرار پر متفق ہے۔ چھٹیاں ان حقوق کو ادا کرنے کا بہترین موقع ہوتی ہیں۔ اس طرح آپ اپنے اوقات کو مفید طریقے سے صرف کر سکتے ہیں۔ ہمارا موضوع محض یاد دہانی و نصیحت ہے، کیونکہ نصیحت و یاد دہانی مومنوں کو فائدہ دیتی ہے، اور یہ اس لیے بھی ہے تاکہ آج کی یہ چکا چوند اور جاذبِ دل و نظر چیزیں کہیں ان حقوق کو ذہنوں سے اتار نہ دیں۔ یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ دورِ حاضر کی حالت اور اس کی چمک دمک نے ہم میں سے بہت [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۰۷۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۰۸۰)