کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 231
’’تمھیں چاہیے کہ خود پسند اور متکبر انسان سے تم کوئی حدیث نہ سنو۔‘‘ جب تم اسباب کے ساتھ چمٹ جاؤ گے تو اسباب کا اثر ختم ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ یَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا﴾ [التوبۃ: ۲۵] ’’غزوۂ حنین کے دن جب تمھیں تمھاری افرادی کثرت بہت ہی پسند آئی، مگر اس کثرت نے تمھیں کوئی کام نہ دیا۔‘‘ واقعۂ حضرات یعقوب ویوسف علیہما السلام : حضرت یعقوب علیہ السلام کا حال اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں ان کی احتیاط کا اندازہ کریں کہ انھوں نے فرمایا: ﴿ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْکُلَہُ الذِّئْبُ﴾ [یوسف: ۱۳] ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھا جائے۔‘‘ اور یعقوب علیہ السلام کے لڑکوں نے وہی کلمہ کہا: ﴿اَکَلَہُ الذِّئْبُ﴾ [یوسف: ۱۷] ’’اسے تو بھیڑیا کھا گیا ہے۔‘‘ اللہ نے ہر کام کے لیے وقت مقرر کر رکھا ہے، اور غرض و غایت تک پہنچنے کے لیے راستے بنا رکھے ہیں۔ دنیا کی زینت اور مال و متاع میں سے بعض دفعہ کوئی شخص معمولی محنت ہی سے حظِ وافر پالیتا ہے اور بسا اوقات بھرپور محنت کرنے والا محروم رہ جاتا ہے۔ اسباب در اصل راستہ ہوتے ہیں، انھیں لازماً اختیار کرنا چاہیے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ انھیں اختیار کرنا ہی عقوبت و سزا کا سبب بن جاتا ہے۔ واقعہ حضرت سلیمان علیہ السلام : حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعے پر غور کر کے دیکھیں کہ انھوں نے کہا: ’’آج رات میں ایک سو عورت سے جماع کروں گا اور ہر عورت ایک لڑکے کو جنم دے گی، مگر ساتھ ان شاء اللہ نہ کہا، تو ان سو عورتوں میں سے صرف ایک کے سوا کوئی حاملہ ہی نہ ہوئی، اور اس نے بھی بچے کا آدھا حصہ ہی جنم دیا۔‘‘[1] خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے مسبّب الاسباب کو پہچان لیا اور وہ اس کے ساتھ ہی [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۲۴۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۵۴)