کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 230
مانگ سکو اور ایک گھڑی ایسی بھی ضرور ہونی چاہیے جس میں تم اپنا محاسبہ کر سکو۔ اپنے اعضاے جسم پر گہری نگرانی رکھو، کہیں زبان سے کوئی بری بات نہ نکل جائے اور دل میں بلا وجہ کسی پر دشمنی و غصہ نہ جمع ہونے پائے۔ سب سے زیادہ کنٹرول کی ضرورت زبان اور آنکھ کے لیے ہے۔ نظر کو حرام کردہ اشیا کے لیے کھلا چھوڑ دینا، سعادت و نیک بختی کی راہ میں رکاوٹ ہے جو زندگی کو خراب کر دیتا ہے۔ بندہ جب اپنے اور مخلوق کے مابین تمام معاملات کی اصلاح کرلیتا ہے تو اس کا مقصود و مطلوب اسے حاصل ہو جاتا ہے۔ دنیا کی شہوت اور رنگینیاں ہلاکت کے پھندے ہیں۔ محاسبۂ نفس کے لیے عزم و حزم سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ دنیا ایک میدان ہے اور واجب یہ ہے کہ اس میں سبقت لے جانے والا دماغ ہو۔ جس نے اپنے نفس کی لگام اپنی طبیعت اور ہواے نفس کے سپرد کر دی وہ ضائع ہو گیا۔ دنیا میں جزا و سزا کی عجیب وغریب مثال یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا واقعہ ہے کہ جب انھوں نے یوسف علیہ السلام کے ساتھ کیا جو کچھ بھی کیا اور بالآخر وہ بڑے سستے داموں بک گئے، تو پھر وہ وقت بھی آیا کہ انھی بھائیوں کے ہاتھ انھی یوسف علیہ السلام کے سامنے اٹھ گئے اور وہ منتیں کرنے لگے کہ ’’ہم پر صدقہ کرو۔‘‘ فریبِ صحت و شباب: جوانی اور صحت پر فریفتہ نہ ہوں۔ بوڑھے تو بہت کم مرتے ہیں، موت کی شرح تو جوانوں میں ہی زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بوڑھے کم ہی لوگ ہوتے ہیں۔ جس نے اپنے ضمیر کی اصلاح کر لی، اس کی عظمت وفضیلت کی خوشبو مہک اٹھی اور اس کی خوشبو سے دل چہک اٹھے۔ اخلاص پر نظر رکھیں، اس کے بغیر کوئی عمل نفع نہیں دیتا۔ اپنی آبرو کو گناہوں کی ذلت کے بدلے میں مت بیچو۔ جس چیز کی طرف دل مائل ہو رہا ہو، اسے ترک کرنے میں جتنی جدوجہد کریں گے، اتنی ہی اللہ کی محبت بڑھے گی۔ وقت ایک غنیمت ہے: کوئی ایسا کام جو نیک ہے اور آپ کر سکتے ہیں، اسے ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ جو بیٹھ گیا وہ کم ہمتی کی وجہ سے بیٹھ گیا۔ تم ایسے میدان میں ہو کہ جس میں وقت ہاتھوں سے سرکتا جا رہا ہے۔ سستی نہ کریں، جو کھو گیا وہ سستی ہی کی وجہ سے کھو گیا اور جس نے کچھ پا لیا تو وہ جدوجہد کرکے ہی پایا، خود پسندی کی گردن توڑ دو، تکبر ناپید ہو جائے گا۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: