کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 228
کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمر ایک موسم ہے اور باہوش و حواس آدمی نفیس اشیا و اعمال ہی کو اختیار کرتا ہے۔ زندگی کی صحیح لذت صرف وہی پا سکتا ہے جو عملی و اخلاقی استقامت کا پیکر ہو اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو صحت وعافیت کے ایام کو غنیمت سمجھتے ہوئے ان میں نیک عملوں کی کھیتی باڑی کر سکے۔ جنت میں سب سے بلند و بالا مقام و منزلت اس کی ہوگی جس نے زیادہ افضل عمل کیا ہوگا، اور افضل ترین عمل علمِ شریعت کا حصول ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ اسی کے تابع ہے۔ جب علم نہ ہوگا تو جہالت ہوگی۔ عمر بڑی عزیز چیز ہے اور علم بہت گہرا سمندر ہے، لہٰذا افضل یہ ہے کہ اہم ترین کو پہلے اپنائے اور پھر اہم تر اور آخر میں اس سے بھی کم اہم کو۔ علم کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا جس سے دین و دنیا کی خیر و بھلائی حاصل کی جا سکتی ہے، مال و متاع اور دنیا کے پیچھے دوڑ دھوپ کرنے سے کہیں بہتر اور زیادہ حقدار ہے اور زندگی کا ثمر تو علم وعمل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ ہر وقت اللہ کی نظر میں: جو شخص ہمیشہ سلامتی میں رہنا چاہے، اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی نگرانی اور ہر وقت اس کی نظر میں ہونے کا پختہ یقین رکھے۔ اگر کوئی شخص اپنے نفس کو اللہ کے تقوے کے منافی کسی چیز پر مطلقاً کھلا چھوڑ دیتا ہے تو یقینا وہ اپنی اس غفلت کی جلد یا بدیر سزا ضرور پاتا ہے۔ اسے اس دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کہ آپ نے برائی کی لیکن اس کے عوض میں آپ پر احسان کیا گیا اور آپ سمجھ بیٹھیں کہ شاید مجھے معاف کر دیا گیا ہے۔ بعض دفعہ گناہ گار شخص اپنے بدن اور مال میں صحت و سلامتی پاتا ہے تو وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ مجھے کوئی سزا نہیں دی گئی، حالانکہ وہ کیا جانے کہ جو سزا اسے دی جا رہی ہے وہ اس سے غافل ہے، اور یہی غفلت اس کی سزا ہے۔ گناہ پر گناہ کرتے جانا بھی دراصل گناہ کی سزا ہی ہے۔ سزائیں کبھی تو فوراً نافذ کر دی جاتی ہیں اور کبھی کبھی اللہ تعالی کے حلم و بردباری کی وجہ سے موخر کر دی جاتی ہیں۔ خطا و گناہ کے بڑے ہی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور اگر یہ گناہ بہت زیادہ جمع ہو جائیں تو پھر یہ بہت ہی اذیت کا باعث ہو جاتے ہیں، ایسے میں اللہ کے سامنے گڑگڑانے اور گناہوں سے کنارہ کشی کر لینے سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ کبھی کبھی معمولی سی چنگاری پورے شہر کو جلا کر خاک کر دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے اس قول پر غور کرے جسے قرآن نے نقل فرمایا ہے، جس میں وہ بڑی عاجزی سے کہتے ہیں: