کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 222
’’جو عورت نمازِ پنج گانہ کی پابندی کرے، ماہِ رمضان کے روزے نہ چھوڑے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، اسے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ۔‘‘ زنا کی قباحت: اس حفاظت کو توڑنے اور اس عظیم قاعدے کی دیوار میں دراڑ پیدا کرنے والا سب سے بدترین فعل ’’زنا کاری‘‘ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فعل تمام فحاشیوں میں سے بدترین فحاشی اور تمام مہلک کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گناہ ہے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے شرک، زنا کاری اور لواطت و اغلام بازی کو اپنی کتاب مقدس میں خباثت و نجاست قرار دیا ہے اور یہ نام اس نے کسی دوسرے گناہ کو نہیں دیا۔‘‘[1] پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’گناہوں میں سے دل اور دین کو تباہ کرنے والا کوئی گناہ ان دو فحاشیوں (زنا و لواطت) سے بڑھ کر نہیں۔ ان دونوں میں دل اللہ سے دور کرنے کی خاصیت پائی جاتی ہے۔ جب دل ان دونوں پر لگ جاتا ہے تو وہ اللہ پاک سے دور ہٹ جاتا ہے، کیونکہ اللہ کی طرف تو صرف پاک افعال و اعمال ہی کی رسائی ہوتی ہے۔‘‘[2] اللہ تعالیٰ نے زنا کاری کی ہلاکتیں، اس کا انجامِ بد اور اس کی قباحتیں بیان کرتے ہوئے اس سے روکا ہے اور فرمایا ہے: ﴿ وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰھًا اٰخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِِلَّا بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا . یُّضٰعَفْ لَہٗ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہٖ مُھَانًا . اِِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِھِمْ حَسَنٰتٍ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴾ [الفرقان: ۶۸ تا ۷۰] ’’اور وہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے، اور نہ کسی کو ( نا حق ) قتل کرتے ہیں [1] إغاثۃ اللھفان لابن القیم (۱/ ۷۱) [2] مصدر سابق (۱/ ۷۷)