کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 220
عادات ہیں اور ان کے ذلالت و فضیحت والے افعال و حرکات ہیں، ان کے ہاں نہ عزت کی پروا نہ غیرت سے تعلق، نہ مروت و مردانگی اور نہ شرافت و کرامت، شتر بے مہار شہوت رانی، عزت و آبرو سے بے پروائی، حیا داری کا ضیاع ہے اور بد ذوقی کی انتہا ہو چکی ہے، نہ کوئی اپنی محرم عورتوں کی آوارگی پر غیرت کھاتا ہے اور نہ فحاشی و جرائم پر کسی کا ماتھا ٹھنکتا ہے۔ اس اباحیت پسندی نے کیا کیا گل نہیں کھلائے اور عفت و عصمت کو پسِ پشت ڈالنے اور طہارت و حیا کو ترک کرنے نے ان لوگوں کو کن کن اخلاقی بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا۔ یہ اباحیت ان میں وہ برائیاں لائی، جن کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ انھیں ان اضرار ونقصانات سے دوچار کیا جن کی مقدار کا اندازہ کرنا بھی ممکن نہیں۔ ایسا فساد اور اخلاقی بگاڑ پیدا کیا کہ جرائم کی تعداد ہی معلوم نہیں کی جاسکتی اور نہ ان کے برے اثرات کا کوئی اندازہ لگایا جا سکتا ہے جن کے انتہائی قبیح نتائج سامنے آئے۔ اسلامی نظامِ عفت و پاکدامنی: افراد اور معاشروں کی سطح پر عفت و پاکدامنی پیدا کرنے اور نظافت و حیا داری کو عام کرنے کے لیے اسلام کی تعلیمات اور شریعت کے قواعد میں بہت سارے طریقے موجود ہیں جن کے ذریعے سے یہ اعلیٰ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ نگاہوں اور شرمگاہوں کی حفاظت: ان میں سے شریعت کے وہ اوامر، قطعی تعلیمات اور لازمی قوانین ہیں جو عام مومنوں اور تمام مسلمانوں کو شرمگاہوں کے تحفظ اور انھیں حرام سے بچانے کا حکم دیتے اور ذلیل حرکات اور افعالِ بد سے روکتے ہیں۔ شرمگاہوں کو فحاشی کے امور و افعال سے محفوظ رکھنے سے نفوس کا تزکیہ و طہارت یقینی امر ہے، اس سے معاشروں کی سلامتی اور امن کا تحفظ ہوتا ہے اور اس سے آبرو محفوظ ہوتی ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا یَصْنَعُوْنَ . وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ﴾ [النور: ۳۰، ۳۱]