کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 219
نظامِ عفت کی برکات: اسلامی نظامِ عفت و عصمت ہی وہ نظام ہے، جس کی بدولت انسانوں کے اخلاق و کردار اعلیٰ اخلاقی ضابطوں کے پابند رہتے ہیں اور رذیل حرکتوں اور اخلاقی انحطاط و گراوٹ سے وہ بچے رہتے ہیں۔ وہ ان کے ارادوں کو کنٹرول کرتا اور ان کی شہوتوں کو بے ضابطہ ہو کر پھسلنے سے محفوظ رکھتا ہے۔ وہ نظامِ عفت و عصمت کہ جس میں انسانی عزت و شرف کے مظاہر پائے جاتے ہیں اور جسمانی طہارت و پاکیزگی اور ایمانی نزاہت ونظافت جنم لیتی ہیں۔ مروت و مردانگی اور عزتِ نفس و غیرتِ انسانی کے امتزاج سے عفت و پاکدامنی وجود میں آتی ہے۔ جب یہ پیدا ہو جائے تو انسان کا دل نیک اعمال اور اعلیٰ انسانی آداب کو اپنانے کی طرف مائل ہو جاتا ہے، جو اسے عمدہ عادات اور اچھی صفات اپنانے پر آمادہ کرتا ہے اور حقیر عادات وخصائل اور ذلیل حرکات سے بالا رہنے پر ابھارتا ہے۔ اسلام عفت وعصمت کے تحفظ کا خاص خیال کرتا ہے تا کہ وہ عزت و شرف کا تحفظ کرے اور عزت و آبرو اور نیک نامی کی حفاظت کرے۔ اگر ایسا ہو جائے تو انسان کے ارادے قوی اور اس کا دل شجاعت و بہادری کا پیکر بن جاتا ہے، تب وہ شہوت پرستی کے جذبے کا غلام بنتا ہے نہ سر جھکائے اس کی اطاعت کرتا ہے، بلکہ وہ آسمانی شرف وفضیلت کا تابندہ ستارہ بن جاتا ہے، رذیل و ذلیل حرکات سے بہت بالا نکل جاتا ہے اور شہوت کو کنٹرول کر کے اس کی حدود میں بند کر دیتا ہے جن کے اندر رہنا ان کے لیے شرعی نظر اور اخلاقی مفہوم و قاعدے کی رو سے ضروری ہے۔ ترکِ نظامِ عفت کے نتائج: برادرانِ اسلام! جب ہم اسلام کے ان اعلیٰ قواعد و ضوابط کی بات کرتے ہیں تو ہر عقل و دانائی، بصیرت وبصارت رکھنے والے منصف مزاج شخص پر یہ حقیقت کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ یہ امور دینِ اسلام کے محاسن اور اعلیٰ صفات کا حصہ ہیں اور یہ بات بھی سامنے آجاتی ہے کہ اسلام کی تعلیمات کتنی بلند ترہیں۔ وہ اس بات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیتا ہے کہ آج دنیا کے بے شمار علاقوں میں یہ نظامِ عفت وعصمت مفقود ہو چکا ہے، وہاں کھلی اباحیت وبے حیائی کا دور دورہ ہے، وہاں کوئی شخص عزت و شرف کو جانتا ہے نہ آبرو نام کی کسی چیز کو پہچانتا ہے۔ حیوانوں کی سی ان کی