کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 218
’’اور ان لوگوں کو پاکدامن رہنا چاہیے جو اپنا نکاح کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے۔‘‘ اور ارشاد فرمایا: ﴿ وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّھُنَّ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴾ [النور: ۶۰] ’’تاہم اگر وہ (ان سے بھی) پاکدامنی اختیار کریں تو ان کے لیے بہت افضل ہے، اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے۔‘‘ صحیح بخاری و مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ابو سفیان اور قیصر روم کا مکالمہ موجود ہے، جس میں ابو سفیان رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: (( یَأْمُرُنَا أَنْ نَّعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہٗ لَا نُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا، وَیَنْھَانَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا، وَیَأْمُرُنَا بِالصَّلَاۃِ وَالصَّدَقَۃِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَائِ بِالْعَھْدِ وَأَدَائِ الْأَمَانَۃِ )) [1] ’’ آپ ہمیں اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہمارے آبا و اجداد جن اشیا کی عبادت کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان کی عبادت سے منع کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز قائم کرنے، صدقہ دینے، عفت و پاکدامنی اختیار کرنے، عہد و پیمان کو وفا کرنے اور امانتوں کے ادا کرنے کا حکم فرماتے ہیں۔‘‘ سنن ترمذی میں حسن سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: (( عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَۃٍ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ: شَھِیْدٌ وَ عَفِیْفٌ مُسْتَعْفِفٌ، وَعَبْدٌ أَحْسَنَ عِبَادَۃَ اللّٰہِ وَنَصَحَ لِمَوَالِیْہِ )) [2] ’’میرے سامنے وہ تین آدمی پیش کیے گئے جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے: 1شہید۔ 2عفت وپاکدامنی اختیار کرنے والا۔ 3وہ غلام جو اچھے طریقے سے اللہ کی عبادت کرے اور اپنے مالکوں کا خیر خواہ رہے۔‘‘ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۷۸۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۷۳) [2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۶۴۲) اس کی سند میں ’’عامر عقیلی‘‘ اور اس کا باپ ’’عقبہ عقیلی‘‘ مجہول ہیں۔