کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 214
ان خطرناک ذرائع اِبلاغ نے طے شدہ پلاننگ، جاذبِ نظر پروگراموں اور کھلی اور درپردہ فکری یلغار کے ذریعے خاندانوں کو اپنے ہی گھروں میں اپنے بچوں اور بچیوں کی راہنمائی کرنے سے روکنا شروع کر دیا ہے، تاکہ ان بچوں کے امتِ مسلمہ کے ساتھ روابط کو منقطع کر سکے، ان کے عقائد کمزور اور ان میں حمیتِ دین اور غیرتِ اسلام ختم ہو جائے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بعض خاندان واقعی اپنی تربیتی ذمہ داریوں خصوصاً اصلاحِ عقائد و افکار کی ذمہ داری سے دست کش ہو چکے ہیں اور انھوں نے اپنے بچوں کو ان ذرائع اِبلاغ کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ جو چاہیں ان کی درگت بنائیں، ان کے عقائد و افکار کو مسخ کریں اور اخلاق و کردار میں انحطاط و گراوٹ لائیں۔ برادرانِ اسلام! صحیح اور درست انداز سے خاندان کی تعمیر کوئی آسان کام نہیں، بلکہ یہ ایک جلیل القدر فریضہ ہے، جس کے لیے بھرپور تیاری کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ازدواجی زندگی کوئی کھیل تماشا ہے نہ محض یہ شہوانی جذبات کی تسکین کا ایک ذریعہ ہے، بلکہ یہ چند ذمہ داریوں اور فرائض و واجبات کا مجموعہ ہے۔ جس نے بلا صلاحیت و قدرت اس سے تعرض کیا، وہ شریعتِ الٰہیہ کی حکمتوں سے سراسر ناواقف و جاہل ہے، اور جس نے اس کا غلط استعمال کیا یا اس کے حقوق کو جان بوجھ کر ادا نہ کیا، وہ اللہ کے غضب و عقاب کا مستحق ہے، لہٰذا چاہیے کہ انسان اس ازدواجی زندگی کے لائق ہو تو اس کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے بھی قابل ہو۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا﴾ [التحریم: ۶] ’’اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘ گھر کی کشتی اور مرد ناخدا: خاندانی زندگی ایک اعلی زندگی ہے۔ زندگی کی کچھ ذمہ داریاں اور بوجھ ہوتے ہیں جو اٹھانے پڑتے ہیں، لہٰذا زندگی کی کشتی کو چلانے کے لیے ایک ناخدا یا کپتان کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی سلامتی اور رفتار پر کنٹرول رکھ سکے۔ اس کشتی رانی کی ذمہ داری کو قرآن نے قوامیت و سربراہی سے تعبیر فرمایا ہے اور اسے مرد کا نصیب قرار دیا ہے۔ سر براہی دوسروں کو مسخر کرنے یا انھیں غلام بنانے کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ یہ صرف نگرانی و کنٹرول کی غرض کے لیے ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہر گز یہ