کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 213
بچوں اور مسجد کے مابین ایک گہرا تعلق اور مضبوط رشتہ بنائیں، کیونکہ ایک مسلمان کی زندگی میں مسجد کو ایک بنیادی اور جوہری مقام حاصل ہے۔ مسجد میں آنا جانا ایک جلیل القدر تربیتی عمل ہے جس کا اثر انتہائی گہرا ہوتا ہے اور یہ دلوں میں فضائل و برکات والے کاموں، اعلی قدروں اور اخلاق و آداب کے بیج بوتا ہے۔ اسلامی نظامِ خاندان کا عطیہ: وہ مسلمان خاندان جو ایمان باللہ کی بنیاد پر قائم ہوئے، اسلامی اخلاقیات کو جنھوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور مسجد کے ساتھ اپنا گہرا تعلق استوار کیا، ان خاندانوں نے نورِ قرآن میں تربیت دے کر دنیا کو بڑے بڑے جانباز، کبار ائمہ و علما، اعلی پائے کے عابد و زاہد، انتہائی خیر خواہی کے جذبات سے معمور محبانِ قوم قائدین اور عابد و زاہد خواتین مہیا کیں جنھوں نے صفحاتِ تاریخ کو روشن کیا ہوا ہے۔ بیرونی حملے: آج وہی مسلم خاندان اور اس کا نظام انتہائی خطرناک حملوں کی زد میں ہے، جن کا ارادہ ہے کہ اس کی چولیں ہلا دیں، اس کی عمارت گرا دیں اور اس کے باہمی تعلقات کو توڑ کر رکھ دیں، تاکہ اسی طریقے سے عورتوں میں اخلاقی گراوٹ کو داخل کیا جائے، خاندانی قدروں کو ختم کروایا جائے اور عریانی و اختلاط اور اباحیت و غلاظت کی طرف دعوت دی جائے۔ جب نظامِ خاندان کو برباد کر دیا گیا تو کیا کسی امت کا وجود ممکن رہے گا؟ اگر اس کا وجود بچ بھی گیا تو کیا وہ صرف دنیا کی حاشیہ نشین بن کر نہ رہ جائے گی؟ بعض مسلم ممالک میں نظامِ خاندان کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں، اس لیے کہ وہ ممالک تقلیدِ مغرب کے حامیوں کے چنگل میں پھنس چکے ہیں اور وہ اقوامِ مغرب کی ہر معاملے میں اندھی تقلید کر رہے ہیں، وہاں طلاق کے اعداد و شمار بہت بڑھ گئے ہیں اور اکثر نوجوان شادی کرنے سے پہلو تہی کرنے لگے ہیں، جس کا نتیجہ واضح ہے کہ وہ شہوت رانی کے لیے شتر بے مہار ہوئے پھرتے ہیں۔ آیندہ دور انتہائی موثر اور خطرناک دور ہوگا۔ معاشرتی تغیرات نے خاندانی کردار کو بہت محدود کر دیا، سیٹلائٹ چینلز نے خاندان کا سارا وقت اپنے کھاتے میں ڈال لیا ہے اور خاندان کی راہوں پر اَثر انداز ہو رہے ہیں، اس کی قدروں کو بدل رہے ہیں۔ بعض مواقع پر خاندان اپنی تاثیر کھوتا جا رہا ہے اور اس کی فعال شخصیت بھی ماند پڑتی جاتی ہے۔