کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 210
’’ہو سکتا ہے کہ تمھاری اس سے نفرت کے باوجود اسے اپنے گھر میں بسائے رکھنے میں اور صبر وہمت سے کام لینے کی وجہ سے اللہ تمھیں دنیا و آخرت ہر دو جہاں کی خیرِ کثیر سے نواز دے۔‘‘[1] جاہل لوگ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لیتے ہیں اور اپنی زندگی کو اپنے ہی ہاتھوں اور اختیار سے تباہ کر لیتے ہیں اور دلوں کی باہمی محبت و مودت اور رحم دلی کے بجائے عناد و انانیت سے کام لیتے ہیں جو نحوست وبربادی کا پیغام اور خاندان کے باہمی اختلافات کا آغاز ہوتا ہے۔ اس عناد و انانیت اور چیلنج بازی سے بڑھ کر خاندانی روابط کو نقصان دینے والی دوسری کوئی چیز نہیں۔ معمولی جھگڑا عناد کی وجہ سے بڑا بن جاتا ہے۔ اگر نرمی و صبر کا رویہ اختیار کیا جائے تو بڑے بڑے اختلافات اور جھگڑے بھی معمولی بنتے بنتے ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم کتنے ہی واقعات سنتے اور مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ خاندانی نظام میں قدم رکھتے ہی ان میں اختلاف شروع ہو جاتا ہے جبکہ وہ خاندان ابھی گہوارے میں ہوتا ہے اور ابھی تک اس کی عمارت بھی مکمل نہیں ہوئی ہوتی۔ یہ صرف اسی جھوٹی انانیت و خود پسندی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ بچوں کے انحراف کا اصل سبب: ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں پائے جانے والے انحراف اور بے راہ روی کا اصل سبب یہ خاندانی کشمکش ہی ہے، لہٰذا خاندان کے افراد کی ذمہ داری ہے کہ داخلی امن و استقرار کے لیے لڑائی جھگڑے کی نوبت آنے سے پہلے پہلے ہی اپنے آپ کو سنبھال لیں۔ مسلم خاندان کی ذمہ داریاں: یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ زندگی ہر لمحہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ یہ غم اور خوشی کا میل ہے اور اس دنیا میں ہر چیز اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہے: (1)۔مسلم معاشرے میں ایک خاندان کی ذمے داریوں میں سے پہلی اور اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم کریں اور مسلم گھرانے کی تعمیر میں اللہ کی رضا اور اس کی شریعت پر عمل کریں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ﴾ [البقرۃ: ۲۲۹] [1] تفسیر ابن کثیر (۱/ ۴۴۲)