کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 208
﴿ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا﴾ [الأعراف: ۱۸۹] ’’اللہ ہی وہ ذات ہے، جس نے تمھیں ایک نفس سے پیدا کیا اور پھر اسی سے اس کی بیوی بنائی تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کر سکے۔‘‘ خاندانی استقامت کے اسباب: اگر خاندان کے نظام کو توڑ دیا جائے تو انسانی زندگی کے استقامت پانے کا کسی بھی طرح تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ وہ لوگ جو نظامِ خاندان کو توڑنے کے درپے ہیں وہ بنی نوعِ بشر کے ساتھ کسی خیر خواہی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ تاریخ کے ہر دور میں ان کی یہ دعوت ایک سرکش آواز شمار کی گئی ہے اور آج بھی اس کا یہی حال ہے۔ خاندان باہمی افہام و تفہیم کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے افراد باہمی رضا مندی اور صلاح و مشورے سے ہر کام سر انجام دیتے ہیں۔ اور تو اور بچوں کو دودھ پلانے اور دودھ چھڑوانے کے سلسلے میں قرآن کریم نے کتنے بلیغ انداز سے مشورہ اور رضامندی کے بنیادی اصولوں کو بیان فرمایا ہے، چاہے یہ دونوں میاں بیوی کی علاحدگی کے بعد ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ وَ عَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُھُنَّ وَ کِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَھَا لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌم بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ وَ عَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اتَّقُوْا اللّٰہَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴾ [البقرۃ: ۲۳۳] ’’اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے اور وہ مرد جس کا بچہ ہے، اس کے ذمے معروف طریقے کے مطابق ان (عورتوں) کا کھانا اور ان کا کپڑا ہے۔ کسی شخص کو تکلیف نہیں دی جاتی مگر جو اس کی گنجائش ہے، نہ ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف دی جائے اور نہ اس مرد