کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 207
تیسرا خطبہ اسلامی نظام خاندان امام و خطيب :فضيلة الشيخ عبد الباري الثبيتي حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد! مسلمان خاندان نیک اور صالح معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر خاندان اچھا ہو گا تو اس کے افراد بھی صحیح ہوں گے اور اگر خاندان اچھے ہوں گے تو ان کے مجموعے سے تیار ہونے والا پورا معاشرہ ہی اچھا ہوگا۔ اسلام نے خاندان کی تشکیل و تکوین کی بنیادوں اور اس کے اتحاد و ارتباط کے اسباب و ذرائع پر خصوصی توجہ دی ہے، تاکہ مسلم معاشرہ سر بلند رہے، اس کے افراد کے دل باہم ملے رہیں اور ان پر محبت و پیار کی فضا طاری رہے اور سب کے دلوں میں محبت و مودت کے جذبات موجزن رہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً﴾ [الروم: ۲۱] ’’اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے اس نے تمھیں میں سے تمھاری بیویاں بنائیں اور تمھارے درمیان محبت و رحم دلی پیدا فرما دی۔‘‘ مسلم سوسائٹی کے تمام افراد (میاں بیوی) وحدتِ شعور اور وحدتِ جذبات کے ساتھ زندگی گزاریں، اس کے لیے اللہ نے ان کو یوں شیر و شکر کر دیا کہ فرمایا: ﴿ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ﴾ [البقرۃ: ۱۸۷] ’’وہ (بیویاں) تم (شوہروں) کا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔‘‘ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ میاں بیوی میں سے ہر کوئی دوسرے کے لیے ضروری اور اس کی تکمیل کا لازمی حصہ ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: