کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 206
آبا و اجداد قتل ہوئے تھے، ان کی خوبیاں بیان کیں۔‘‘[1] علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں کہتے ہیں: ’’صحیح احادیث کی رو سے صرف عورتوں کو اس کی اجازت ہے، لہٰذا مرد اس طرح نہ کریں، کیونکہ عموماً مرد و زن کا ایک دوسرے کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا منع ہے۔‘‘[2] حد سے تجاوز: انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بہت سارے لوگ جس بات کی شرعاً اجازت دی گئی ہے اس سے تجاوز کر کے حرام امور تک پہنچ جاتے ہیں، وہ بھی گانے بجانے والے (گویے یا سنگرز) اور گانے بجانے والی (لیڈی سنگرز) کرائے پر لے آتے ہیں جو فسق و فجور پر مشتمل گانے گاتے ہیں اور ساتھ ہی آلاتِ موسیقی وغیرہ بجاتے ہیں۔ ان حرام امور پر وہ بڑی بڑی خطیر رقمیں خرچ کرتے ہیں، گانے کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرتے ہیں، پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتے اور بد کار ناچنے والی فاحشہ عورتوں (ڈانسرز) سے ناچنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہاں مرد و زن کا اختلاط ہوتا ہے، وقت برباد اور نمازیں ضائع کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کئی بڑے بڑے فتنے اور انجامِ بد والے امور ہیں جو اکثر مسلمانوں کی صفوں میں وبا اور اندھی تقلید کی راہ سے پھیل گئے ہیں۔ اللہ کے بندو! ان امور سے بچو اور اس طرح کی محافل میں شرکت کرنے سے پرہیز کرو۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’ایسی شادی (یا ولیمہ و دعوت) میں مت جاؤ، جس میں طبلہ، سارنگی اور گانا بجانا ہو۔‘‘[3] اللہ کے سامنے توبہ کرو، اس کی طرف رجوع کرو اور اسلام کے احکام و آداب پر عمل کرو۔ اپنے بگڑے ہوئے امور کو سنوارو اور کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرو، تاکہ تم فلاح و نجات پاؤ۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، و سلام علی المرسلین والحمد للّٰه رب العالمین۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۱۴۷) [2] فتح الباري (۹/ ۲۲۶) [3] آداب الزفاف للألباني (ص: ۱۶۶)