کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 204
اللہ کے بندو! قوتِ سماعت ایک عظیم امانت اور بہت بڑی نعمت ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور اس کی حفاظت کرنے کا حکم دیا اور بتایا ہے کہ وہ اس کے ذمے دار و جواب دہ ہیں۔ طرب و غنا اورآلاتِ طرب (موسیقی وباجے وغیرہ) سننا اس نعمت کی ناشکری کرنا اور اللہ کی معصیت وگناہ میں واقع ہونا ہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اَلْعَیْنَانِ زِنَاھُمَا النَّظْرُ، وَالْأُذُنَانِ زِنَاھُمَا الْاِسْتِمَاعُ، اَللِّسَانُ زِنَاہُ الْکَلَامُ، وَالْیَدُ زِنَاھَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلُ زِنَاھَا الْخُطیٰ، وَالْقَلْبُ یَھْوِيْ وَیَتَمَنّٰی، وَیُصَدِّقُ ذٰلِکَ الْفَرْجُ وَیُکَذِّبُہٗ )) [1] ’’آنکھوں کا زنا نظر بازی، کانوں کا زنا شہوانی باتیں سننا، زبان کا زنا شہوانی باتیں کرنا، ہاتھ کا زنا حرام چیز کو پکڑنا، پاؤں کا زنا حرام کام کے لیے چلنا، دل کا زنا تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔‘‘ لمحۂ فکریہ: مسلمانو! گانے بجانے اور کھیل تماشے کی جگہوں کی تعظیم کرنا اور ان کے مالکوں کا خود کو بڑا ظاہر کرنا، لوگوں کو برائی اور گمراہی کی طرف دعوت دینا کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کرنے کے مترادف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِھِمْ شَیْئًا )) [2] ’’جس نے گمراہی کی طرف دعوت دی، اسے اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کا اتباع کرنے والوں کو ہو گا، ان کے گناہوں سے کچھ کم کیے بغیر۔‘‘ مسلمانو! حیرت و افسوس ہے اس قوم پر جو ناچتی اور گاتی پھرتی ہے، جبکہ یہ امت زخموں سے چور اور خون میں لت پت ہے۔ اس کے افراد کی لاشوں کے ڈھیر اور اپاہجوں کے انبار لگے ہوئے ہیں، اس کی بہو بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں۔ زمین اور مقاماتِ مقدسہ صبح و شام چھینے جا رہے [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۵۷) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۷۴)