کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 203
دیکھو! ان گانوں اور کھیل تماشے کی جگہوں نے ان کے مالکوں پر کتنا شر و فساد پھیلایا ہے جو اپنا اصل چہرہ بدل کر برے آثار و نتائج کو بنا سنوار کر دکھاتے ہیں۔ جنھیں ہر صاحبِ بصیرت ان کے چہروں، باتوں، حرکتوں اور ان کے احوال سے دیکھ سکتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا﴾ [المائدۃ: ۴۱] ’’اور جس کا خراب کرنا اللہ کو منظور ہو تو آپ اس کے لیے ہدایتِ الٰہی میں سے کسی چیز کے مختار نہیں۔‘‘ جب امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے ان کے زمانے میں بعض لوگوں نے گانے بجانے کے بارے میں رخصت دینے والوں کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا: ’’یہ فاسقوں کا فعل ہے۔‘‘[1] مسلمانو! گانے سننا اور ان کا التزام کرنا شیطان کی بہت بڑی چال ہے جو جاہلوں کے دلوں کو قید کر کے انھیں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے اور سننے سے روکنے کا جال ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’میں نے بغداد میں دیکھا ہے کہ زنادقہ نے ایک چیز ایجاد کی ہے جسے ’’تغبیر‘‘ (یعنی گا گا کر لہردار آواز میں پڑھنا) کہتے ہیں، اس سے وہ لوگوں کو قرآن سے دور کرتے ہیں۔‘‘[2] اللہ اکبر! اگر تغبیر کا یہ حال ہے جو ایسے اشعار ہوتے ہیں جو لوگوں کو زہد کی طرف مائل کرتے ہیں، وہ ان اشعار کو گاتا ہے اور ساتھ ہی ایک سلاخ لے کر کسی سوکھی جلد وغیرہ پر مارتا ہے، تو پھر اس گانے کے بارے میں کیا کہا جائے گا، جو شراب کا قائم مقام ہے، جسے فن اور آرٹ کہتے ہیں، جبکہ وہ شہوت اور گندے الفاظ ہوتے ہیں، جن سے دل کو قرار آتا ہے نہ دماغ کو سکون!! سبحان اللہ! عقلیں کیسے گمراہ ہو گئیں اور فکرو فہم اور سوچیں کیسے غارت ہو گئیں؟ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ﴾ [الحج: ۴۶] ’’بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔‘‘ [1] العلل و معرفۃ الرجال (۲/ ۷۰) تفسیر القرطبي (۱۴/ ۵۵) [2] حلیۃ الأولیاء (۹/ ۱۴۶) سیر أعلام النبلاء (۱۰/ ۹۱)