کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 199
سے ہٹ کر خوشی تلاش کرتے ہیں۔ ہنستے گاتے ہیں۔ شہوت میں شفا و عافیت طلب کرنے کے لیے دوا کے بجائے زہر استعمال کرتے ہیں۔ ایسے ہی کئی لوگ آج کل موسیقی اور گانے وغیرہ سنتے ہیں اور جھوٹی وبے سود دلیلیں پیش کرتے ہیں، جو سندکے لحاظ سے بھی صحیح نہیں ہیں۔ یہ فتنہ پھیلانے والے کچھ ایسے لوگ ہیں جو گانے اور موسیقی کے فتنوں میں مبتلا ہیں۔ اس کے بارے میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (( لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ یَّسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ وَالْحَرِیْرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ )) [1] ’’میری امت میں سے کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو شرمگاہ، ریشم، شراب اور گانے بجانے والی چیزوں کو حلال بنالیں گے۔‘‘ مسلمانو! آج کل کے گانوں کو اگر کوئی صاحبِ علم و ایمان جائز قرار دے دے تو وہ سب سے بڑا باطل اور گناہ ہے، جو ہر فساد اور بربادی پر مشتمل ہے۔ ایسے گانے جن میں آنکھوں کا وصف، محبوب و معشوق کی خوبیاں اور عشق و فراق کے اشعار ہوتے ہیں۔ وہ ایک شیطانی آواز ہے، جو دلوں میں پیوست ہو کر ان کے شہوانی جذبات کو بھڑکاتی ہے۔ ناچ گانا اور کھیل تماشا، ناک میں گندی بو اور کانوں میں فسق و فجور کی آواز بھرتے ہیں۔ مسلمانو! کوئی عقلمند اپنے آپ کو اس طرح کی گندگی میں کیسے دھکیل سکتا ہے جس سے نفسِ مومن اور فطرتِ سلیمہ دور بھاگتی ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( إِنِّيْ لَمْ أَنْہَ عَنِ الْبُکَائِ، وَلٰکِنِّيْ نَھَیْتُ عَنْ صَوْتَیْنِ أَحْمَقَیْنِ فَاجِرَیْنِ: صَوْتٍ عِنْدَ نَغْمَۃٍ، لَھْوٍ وَ لَعْبٍ وَ مَزَامِیْرِ الشَّیْطَانِ، وَصَوْتٍ عِنْدَ مُصِیْبَۃٍ، لَطْمِ وُجُوْہٍ وَ شَقِّ جُیُوْبٍ وَرَنَّۃِ شَیْطَانٍ )) [2] ’’یقینا میں نے رونے سے کبھی منع نہیں کیا، مگر دو احمق اور فاجر آوازوں سے روکا ہے: ایک وہ آواز جو کھیل تماشے اور شیطانی نغموں کے ساتھ ہو، اور دوسری وہ آواز جو مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے، کپڑے پھاڑنے اور شیطان کے ساتھ بَین کرنے کی ہوتی ہے۔‘‘ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۵۹۰، معلقا مجزوما بہ) مسند أحمد (۵/ ۳۴۲) [2] المستدرک للحاکم (۴/ ۴۰) نیز دیکھیں: سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۰۰۵) السلسلۃ الصحیحۃ، برقم (۲۱۵۷)