کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 195
طرف رجوع کرو اور لوٹ آؤ، کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ اس دین کو چھوڑنے کا سوچو بھی نہیں، اس دین کی خاطر بہت خون بہایا گیا ہے۔ انسان کو اپنے عزیز و اقارب سے بھی تکلیف پہنچ سکتی ہے، اس پر صبر کرو ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی کوششیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وطن اور مال و دولت کو چھوڑ کر آنا پڑا، حالانکہ وہ ان کے چچا زاد تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاف کر کے آزاد کر دیا اور کہا تھا: (( أَنْتُمُ الطُّلَقَائُ )) [1] ’’تم آزاد ہو۔‘‘ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قدوۂ حسنہ (اعلیٰ نمونہ) بناؤ۔ صبرکرو۔ معافی دینے کا رویہ اپناؤ۔ رحم دلی اور صلہ رحمی کرو۔ اگر تمھیں اپنے ہی لوگوں سے نقصان پہنچے تو انھیں معاف کردو، کیونکہ لڑائی اور علاحدگی اختیار کر لینے سے ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے جبکہ پیار و سلوک سے دل صاف رہتے ہیں، لہٰذا اختلاف اور لڑائی سے پرہیز کرو، کیونکہ اس میں شکست ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ وَ اصْبِرُوْا﴾ [الأنفال: ۴۶] ’’اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ تم ناکام ہو جاؤ گے اور تمھاری ہوا اُکھڑ جائے گی اور صبر کرو۔‘‘ خوشی کے وقت یہ نہ سمجھو کہ غمی سے ہمیشہ بچے رہو گے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ خوشی غم میں تبدیل ہو جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مالِ غنیمت اکٹھا کر نے کے لیے پہاڑ سے نیچے اترے تو انھیں شکست ہوگئی۔ دنیا ایک ہی حال میں نہیں رہتی، مصیبت پر صبر کرو اور نعمت پر شکر کرو۔ انبیا اللہ کے پیدا کردہ بندے ہیں، جو کچھ انسانوں کو پیش آتا ہے وہ انھیں بھی پیش آتا ہے۔ انھیں عبادت کی حد تک نہیں پہنچانا چاہیے اور نہ ہی ان کی شان میں کمی کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو درع پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی جنگ میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت جبریل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام نے بھی جنگ لڑی، اس کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک زخمی ہوگئی اور دانت شہید ہوگئے۔ ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے، وہی نفع دینے والا اور وہی نقصان پہنچانے والا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود مختار ہوتے اور اپنے لیے سب کچھ کر سکتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون نہ بہتا۔ [1] السیرۃ النبویۃ لابن ھشام (۴/ ۴۱۲) اس کی سند منقطع ہے۔