کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 192
سے چلایا اور کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) شہید ہو گئے۔ مسلمانوں کے دلوں پر اس بات کا بہت گہرا اثر ہوا جس سے ان میں سے زیادہ تر بھاگ کھڑے ہوئے اور اسی طرح اللہ کو منظور تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی طرف آئے اور جب مسلمانوں نے انھیں دیکھا تو اکٹھے ہو کر وادی کی طرف چل پڑے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کی غار میں آرام فرما تھے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک سے خون دھویا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس پر پانی انڈیل دیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون بند ہونے کے بجائے زیادہ بہہ رہا ہے تو انھوں نے چٹائی کے ٹکڑے کو جلا کر راکھ کو زخموں میں بھر دیا، چنانچہ خون تھم گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ زخمی ہو گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ پر چڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی سکت نہ رہی، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نیچے بیٹھے تو ان کی پشت پر کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ اپنے اپنے مقتولین کو تلاش کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے اتر کر شہداے جنگ کو دیکھا کہ ان کے ساتھ کتنا برا برتاؤ کیا گیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ وادی میں شہید پڑے ہیں اور ان کا پیٹ کھول دیا گیا ہے، ناک اور کان کاٹ دیے گئے ہیں۔ پھر مشرک واپسی کے لیے تیار ہونے لگے۔ میدان میں کئی لاشیں اور کئی آخرت کے مہمان پڑے ہوئے تھے، یہ سب ہفتے کے دن ہوا تھا۔ جنگ کا زور ٹوٹا اور لڑائی ختم ہوگئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کے ستر شہید ہوئے اور کافروں کے بائیس افراد ہلاک ہوئے۔ ہمارے شہید جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں گئے۔ مسلمانو! غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی تھی، نہ کہ شکست وہزیمت۔ اس لڑائی (جنگ) میں بہت سے سبق ہیں جن سے عبرت حاصل کرنی چاہیے، اس کے واقعات سنہرے حروف میں لکھے گئے صفحات ہیں، جو نسل در نسل مسلمانوں کو ورثے میں مل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں اپنے کلام پاک میں ساٹھ (۶۰) آیتیں نازل فرمائی ہیں، جن کا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گہرا اثر ہوا۔ یہ دینِ اسلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین ر حمہم اللہ کی سخت محنت اور جدوجہد سے ہم تک پہنچا ہے، اس دین کی خاطر انھوں نے بہت مصیبتیں جھیلی ہیں اور بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ہے، سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ کو اس جنگ میں اسی (۸۰) سے زیادہ زخم آئے اور دشمنوں نے ان کی نعش سے اتنا برا سلوک کیا کہ کوئی انھیں پہچان نہ سکا، سوائے ان کی بہن کے اور وہ بھی پاؤں کی انگلی کے کسی نشان