کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 190
کی طرف سے فریقین (مسلمانوں اور کافروں) کے درمیان فیصلہ نہ ہو جائے۔‘‘ پھر ایک ہزار آدمی کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب وہ مدینہ اور جبلِ اُحد کے درمیان پہنچے تو منافقین کا سردار عبداللہ بن اُبی لشکر کا تیسرا حصہ لے کر پیچھے کی طرف پلٹ گیا۔ یہ جان کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے گئے اور میدانِ اُحد میں وادیِ اُحد کے شروع میں پہاڑ کے پاس جا اترے۔ اپنی پشت کو جبلِ اُحد کی طرف کیا، مشرکینِ مکہ کا لشکر مسلمانوں اور مدینہ منورہ کے درمیان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس تیر انداز متعین کیے اور حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا اور حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت نہ کریں چاہے پرندے انھیں نوچ ڈالیں اور فرمایا : (( إِنْ رَأَیْتُمُوْنَا نُقْتَلُ فَلَا تَنْصُرُوْنَا، وَإِنْ رَأَیْتُمُوْنَا نَغْنَمُ فَلَا تُشٰرِکُوْنَا )) [1] ’’اگر تم ہمیں قتل ہوتے دیکھو تو ہماری مدد کے لیے نہ آنا، اور اگر تم ہمیں مالِ غنیمت جمع کرتے دیکھو تو ہمارے ساتھ شرکت نہ کرنا۔‘‘ ہفتے کے روز صبح کا وقت تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی تیاری اور انتظامات کا معاینہ کیا اور جنگ کے لیے تیار نوجوانوں کو دیکھا۔ جنھیں چھوٹا سمجھا انھیں واپس بھیج دیا اور بعض کو اجازت دے دی۔ ان میں سے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ تھے، جن کی عمر پندرہ سال تھی۔ قریشِ مکہ نے بھی جنگ کی بھرپور تیاری کی۔ ان کی تعداد تین ہزار تھی، جن میں دو سو گھوڑ سوار تھے۔ ان کی قیادت ابو سفیان کر رہا تھا۔ وہ اللہ کا نور ختم کر کے لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن . نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا مسلمان صرف سات سو کی تعداد میں تھے جو فتح یا شہادت کے طلبگار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو جنگ کے لیے گرمایا اور صبر وتحمل کی تلقین کی، پھر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا، تلواروں سے تلواریں ٹکرائیں، نیزے بلند ہوئے اور تیر چلے۔ اللہ کے لشکر اور شیطان کی فوج میں مقابلہ ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی اجازت دے دی، دونوں فوجیں آگے بڑھیں اور پھر جنگ [1] مسند أحمد (۲۶۰۴) مستدرک حاکم (۲/ ۲۹۶) نیز دیکھیں: صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۰۴۳)