کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 185
سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ: ثَلَاثَۃٌ أَنَا خَصْمُھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: رَجُلٌ أُعْطِيَ بِيْ ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَکَلَ ثَمْنَہٗ، وَرَجُلٌ اِسْتَأْجَرَ أَجِیْرًا فَاسْتَوْفٰی مِنْہُ وَلَمْ یُعْطِہٖ أَجْرَہٗ )) [1] ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں قیامت کے دن ان لوگوں کا فریقِ مخالف ہوں گا جس نے میرے حوالے سے وعدہ کیا اور پھر غداری کی، اور جس نے کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھالی، اور جس نے کسی کو مزدوری پر لگایا اور پورا کام لیا مگر اس کی مزدوری نہ دی۔‘‘ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( أَعْطُوْا الْأَجِیْرَ أَجْرَہٗ قَبْلَ أَنْ یَّجِفَّ عَرَقُہٗ )) [2] ’’مزدور کا پسینا خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت اسے دے دو۔‘‘ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمد للّٰه رب العالمین۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۲۲۷) [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۴۴۳) نیز دیکھیں: صحیح الترغیب والترھیب، رقم الحدیث (۱۸۷۸)