کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 184
صحیح مسلم ہی میں سیدنا ابو یسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْہُ أَظَلَّہُ اللّٰہُ فِيْ ظِلِّہٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ )) [1] ’’جس نے تنگدست کے ساتھ آسانی کا معاملہ کیا یا اسے قرض معاف ہی کردیا، قیامت کے دن اللہ اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن دوسرا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔‘‘ مالدارو! غربا و مساکین کو تلاش کرو، قرضداروں کو ڈھونڈو اور ان کی ہر ممکن مدد کرو۔ اللہ نے تمھیں جو دولت دے رکھی ہے، اس سے انھیں بھی دو اور ان کے لیے آسانی کا سامان کرو۔ صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: (( مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُّؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ )) [2] ’’جس نے کسی مومن کی کوئی تکلیف دور کی جو اِس دنیا سے تعلق رکھتی ہے، تو اللہ اس کی آخرت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور کرے گا۔‘‘ اور مسند احمد میں ہے: (( مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُہٗ، وَتُکْشَفَ کُرْبَتُہٗ، فَلْیُفَرِّجْ عَنْ مُّعْسِرٍ )) [3] ’’جو چاہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور اس کی (آخرت کی) مشکلات دور ہوں اسے چاہیے کہ وہ تنگ دست کی مدد کرے۔‘‘ ان ہدایات و وصایا پر عمل کرو گے تو سعادت و خوش بختی تمھارا مقدر ہوگی، تمھارے حالات سدھر جائیں گے اور پورا معاشرہ ہی سنور جائے گا۔ مزدور کی اجرت: اسلام نے جن معاملات کی بڑی تاکید کی ہے اور جس چیز کو ادا کرنے میں تاخیر کرنے اور ٹال مٹول کرنے سے سختی کے ساتھ روکا ہے، وہ ہے کمزور مزدور کی اجرت اور اس کے حقوق۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۰۱۴) اس میں ’’یوم لا ظل إلا ظلہ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۹۹) [3] مسند أحمد (۲/ ۲۳) اس کی سند میں ’’زید العمی‘‘ ضعیف ہے۔