کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 181
’’جس نے لوگوں کا مال (قرضہ) لیا اور اس کی نیت ادا کرنے کی ہے تو اللہ ادا کرنے میں اس کی مدد کرتا ہے، اور اگر کوئی کسی کا مال لے اور اسے وہ تلف اور ضائع کرنا چاہتا ہے تو ایسے شخص کو اللہ تلف کر دیتا ہے۔‘‘ اہلِ علم نے کہا ہے: ’’اس کی طرف سے اللہ قرض ادا کر دیتا ہے۔‘‘ کا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ اس دنیا ہی میں اس کے لیے آسانی پیدا کر دیتا ہے کہ وہ قرض سے سبکدوش ہو جائے یا پھر اگر کسی پر اس دنیا میں قرض ادا نہ ہو پائے تو قیامت کے دن قرض خواہ کو قرض دار پر راضی کر دیتا ہے، اس کے لیے اللہ جو طریقہ چاہے اختیار کرے۔‘‘ سننِ ابن ماجہ، صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَدَّانُ دَیْنًا، یَعْلَمُ اللّٰہُ أَنَّہٗ یُرِیْدُ أَدَائَ ہٗ، اِلَّا أَدَّاہُ اللّٰہُ عَنْہُ فِيْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ )) [1] ’’اگر کوئی مسلمان کسی سے قرض لے اور اللہ اس کی نیت کوجانتا ہے کہ وہ قرض ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کا قرض ادا کر دیتا ہے۔‘‘ برے مقصد کو دل میں چھپانے اور عدمِ ادائی کی بدنیتی سے ہر ممکن احتراز کرنا چاہیے، تاکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں وارد اس وعید کا ہم شکار نہ ہو جائیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جس نے کسی کا مال لیا اور واپس کرنے کے بجائے اسے وہ تلف کرنا چاہتا ہے، تو خود ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ تلف کر دیتا ہے۔‘‘ اہلِ علم نے کہا ہے: ’’یہاں اللہ کے تلف کر دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا ہی میں اس شخص کو ہلاک کر دے گا یا اس کی زندگی اجیرن بنا دے گا، اس کی معیشت تنگ کر دے گا اور اس سے برکت اٹھا لے گا اور ساتھ ہی ساتھ آخرت میں اسے عذ۱ب دینا بھی اس تلف کرنے میں شامل ہے۔‘‘ [1] سنن النسائي، رقم الحدیث (۴۶۸۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۴۰۸) اس کی سند میں ’’زیاد بن عمرو‘‘ اور اس کا استاد ’’عمران بن حذیفہ‘‘ مجہول ہیں، لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔