کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 179
کرتے تھے جس کے ذمے قرض واجب الادا ہو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہو گیا، ہم نے اسے غسل دیا، حنوط کیا اور کفن پہنایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر جنازہ پڑھانے کا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قدم آگے بڑھائے اور پوچھا: (( أَعَلَیْہِ دَیْنٌ؟ )) ’’اس پر کوئی قرض تو نہیں تھا؟‘‘ ہم نے عرض کی: ’’دِیْنَارَانِ، فَانْصَرَفَ‘‘ (دو دینار قرض ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے اور جنازہ نہ پڑھایا) سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کا قرضہ اپنے ذمے لے لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازہ پڑھانے کا کہا اور بتایا کہ وہ دو دینار قرض میں نے اپنے ذمے لے لیا ہے، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( حَقُّ الْغَرِیْمِ، وَبَرِیَٔ مِنْھُمَا الْمَیِّتُ )) ’’قرض خواہ کا حق محفوظ ہوگیا اور میت بری الذمہ ہو گئی؟‘‘ انھوں نے عرض کی: جی ہاں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کی نماز جنازہ پڑھائی۔[1] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنازہ پڑھانے کے لیے میت لائی جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ اس پر قرض ہے؟ (( ھَلْ تَرَکَ لِدَیْنِہِ قَضَائً ا؟ )) ’’ اور کیا قرض ادا کرنے کے لیے اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟‘‘ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جاتا کہ اس نے قرض ادا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیتے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جاتا کہ اس نے قرض ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں چھوڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے: (( صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ )) ’’تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو ۔‘‘ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات عطا فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَنَا أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنْفُسِھِمْ، فَمَنْ تَوَفّٰی وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُہٗ )) [2] ’’میں مومنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ ان کا ذمے دار ہوں، اگر کوئی شخص مر جائے اور اس پر قرض ہو تو اس کا قرض میں چکاؤں گا ۔‘‘ اہلِ علم نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقروض کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے رک جانا اس لیے تھا [1] مسند أحمد (۳/ ۳۳۰) نیز دیکھیں: صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۲۹۵) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۲۹۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۱۹)