کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 177
ضمانت طے کیا ہے، اس کے مختلف متعلقات میں سے ایک مسئلہ ’’ لوگوں کا باہم قرض کا لین دین‘‘ کرنا بھی ہے۔ جی ہاں! اسلام نے قرض ادا کرنے میں تاخیر اور ٹال مٹول پر سخت گرفت کی ہے۔ آدمی کا قرض ایک عظیم امانت ہے اور اسلام نے اسے بہت بڑی مسئولیت اور ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا﴾ [النساء: ۵۸] ’’اللہ تمھیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو لوٹا دو۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ان لفظوں میں ایک عنوان قائم کیا ہے: ’’ قرضوں کے ادا کرنے کا بیان‘‘ اور پھر یہ پوری آیت ذکر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَہٗ﴾ [البقرۃ: ۲۸۳] ’’اگر تم آپس میں ایک دوسرے کے بارے میں مطمئن ہو جاؤ تو جسے امانت دی گئی ہو اسے چاہیے کہ وہ امانت مالک کو لوٹا دے۔‘‘ ارشادِ ربانی ہے: ﴿یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ﴾ [المائدۃ: ۱] ’’اے ایمان والو! اپنے معاہدے پورے کرو۔‘‘ حقوق کے ادا نہ کرنے پر وعیدِ شدید: اگر کوئی شخص انسانوں کے باہمی حقوق ادا کرنے میں سستی و لاپروائی کرتا ہے تو اس کے بارے میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے سخت الفاظ میں وعید فرمائی ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں ارشادِ نبوی ہے: (( مَنْ کَانَتْ عِنْدَہٗ مَظْلِمَۃٌ لِأَخِیْہِ فَلْیَتَحَلَّلْ، فَإِنَّہٗ لَیْسَ ثَمَّ دِیْنَارٌ وَّلَا دِرْھَمٌ، مِنْ قَبْلِ أَنْ یُّؤْخَذَ لِأَخِیْہِ مِنْ حَسَنَاتِہٖ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ لَہٗ حَسَنَاتٌ، أُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ أَخِیْہِ، فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ، فَطُرِحَ فِيْ النَّارِ )) [1] ’’اگر کسی نے اپنے کسی مسلمان بھائی سے کوئی چیز جبراً و ظلماً اپنے قبضے میں لے رکھی ہو تو اسے چاہیے کہ اس کو ادا کرکے اس سے سبکدوش ہو جائے، قبل اس کے کہ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۵۳۴)