کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 176
تنبیہ فرمائی ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ [النساء: ۲۹] ’’اے ایمان والو! تم آپس میں ایک دوسرے کے اموال کو باطل طریقے سے مت کھاؤ۔‘‘ اسی بات کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: (( لَا یَحِلُّ مَالُ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِیْبِ نَفْسٍ مِّنْہُ )) [1] ’’کسی مسلمان کا مال کسی دوسرے کے لیے اس کی دلی رضا اور خوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔‘‘ اور فرمایا: (( إِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِيْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا وَفِيْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا )) [2] ’’تمھارے خون، اموال اور آبرو تم سب کے لیے اسی طرح حرمت والے ہیں جیسے آپ کا یہ دن، آپ کا یہ مہینا اور آپ کا یہ شہر حرمت والے ہیں۔‘‘ اسی بات کی مزید تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: (( فَعَلَی الْیَدِ مَا أَخَذَتْ حَتّٰی تُؤْدِّیَہٗ )) [3] ’’وہ چیز ہاتھ کے ذمے ہے جو اس نے پکڑ ی جب تک کہ وہ اسے واپس نہ لوٹا دے۔‘‘ اور اس امر کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( أَدِّ الْأَمَانَۃَ إِلٰی مَنِ ائْتَمَنَکَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَکَ )) [4] ’’جس نے آپ کے پاس کوئی چیز امانت کے طور پر رکھی اس کی امانت اسے واپس لوٹا دیں اور جس نے تمھارے ساتھ خیانت کی ہے تم اس کے ساتھ خیانت کا رویہ نہ اپناؤ۔‘‘ حقوق ادا کرنے کی تاکید: حقوق العباد، جن کے اسلام نے اصول وقواعد بنائے ہیں، اور جن کو ادا کرنے کے لیے نظامِ [1] صحیح ابن حبان، رقم الحدیث (۵۹۷۸) مستدرک حاکم (۱/ ۹۳) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۷۹) [3] مسند أحمد (۵/ ۸) سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۵۶۱) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۲۶۶) [4] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۵۳۵) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۲۶۴)