کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 175
چوتھا خطبہ قرض امام و خطیب : فضيلة الشيخ حسين بن عبد العزيز آل شيخ حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: شریعتِ اسلامیہ کے معارف کا احاطہ اور اس کے کلیات و جزئیات کو پوری طرح جاننے والا شخص بخوبی سمجھ لیتا ہے کہ اسلامی قانون کا مقصدِ اعلی افرادِ امت کی زندگی اور اس کے نظام کا تحفظ ہے، اور اس کی غرض وغایت میں افراد کی استقامت اور امت کی اصلاح کا پہلو بھی نمایاں ہے، جس کا آغاز اصلاحِ عقیدہ وعمل سے ہو کر اس کی انتہا لوگوں کے مختلف شکلوں اور متعدد انواع واقسام کے احوال کی اصلاح کی جائے، تاکہ ان امور کی جائے اور شر وفساد کو دفع کیا جائے۔ حقوق العباد: اس چیز کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے شریعتِ اسلامیہ نے جن وسائل کو بروئے کار لایا ہے ، انھی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے حقوق العباد کو پورے اہتمام کے ساتھ ایک اعلیٰ مقام عطا کیا ہے اور حقوق العباد کا احترام کرتے ہوئے انھیں ایک بلند منزلت سے نوازا ہے۔ اس غرض کے لیے شریعت نے اصحاب الحقوق کی تعیین اور ان سے استفادہ کرنے کی کیفیت کا عام فطری انداز کے مطابق فیصلہ کیا ہے جن سے انسانی نفوس میں نفرت پیدا نہ ہونے پائے۔ اسلام کی دائمی تعلیمات میں حقوق العباد کے تحفظ اور ان کے احترام کی پوری دلچسپی پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ اہلِ علم نے وہ مشہور قاعدہ طے کیا ہے جس میں ہے: ’’بندوں کے حقوق انتہائی باریک بینی پر مبنی ہیں اور اللہ کے حقوق آسانی اور معافی کے اصول پر مبنی ہیں۔‘‘ حقوق العباد کے اس اعلیٰ مقام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے دو مقامات پر