کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 173
ماہرین کی گواہی: ماہرین اس بات پر گواہ ہیں کہ فرصت و فراغت میں گناہ و جرائم کا تناسب عام اوقات کی بہ نسبت بڑھ جاتا ہے۔ دورِ حاضر کے وسائل ان خطرات و جرائم میں جلتی پر تیل کا کام دیتے ہیں۔ یہ بے کاری و فراغت نوجوان طبقے کو بہکاتی ہے اور ان کے سامنے ضیاعِ اوقات اور شرپسندی کے دروازے کھولتی ہے۔ یہ فراغت وبے کاری دلوں میں شر کے بیج نہ بوئے، اس کے لیے ضروری ہے کہ فراغت کے اوقات کو مفید کاموں میں صرف کرو۔ ایک ختم ہو تو دوسرا شروع کر دو، اسی میں حفاظت و بچاؤ ہے۔ فراغت کو ختم کرنے کے مفید ذرائع: بے کاری اور فراغت کے اوقات کو پُر کرنے کے مفید وسائل و ذرائع یہ ہیں کہ عبادات وسنن ادا کریں، امورِ دین سے تعلق رکھنے والی مفید اور بامقصد کتابوں کا مطالعہ کریں، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تاریخِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مطالعہ کریں، اخلاقیات پر مبنی لٹریچر پڑھیں۔ بعض اہلِ دانش نے مطالعۂ کتب کے فوائد کے بارے میں کہا ہے: ’’یہ دل و جان پر اثر انداز ہونے والی چیز ہے۔ شرحِ صدر کا باعث بنتا ہے، دل کو پاکیزگی، زبان کو فصاحت و روانی دیتا ہے۔ اس میں قوتِ قلب کا سامان ہے۔ اس سے بلیغ اشارے ملتے ہیں، اختلافات کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ کتاب کا مطالعہ بکثرت فائدے کا باعث ہوتا ہے۔ اس پر معمولی محنت اور خرچہ آتا ہے، مگر اس کے نتائج بڑے پیارے اور قابلِ تعریف ہوتے ہیں۔ کتاب ایسی گفتگو کرنے والی چیز ہے جو بولتے ہوئے تھکتی نہیں اور یہ ایک ایسی دوست ہے جو ساتھ نہیں چھوڑتی۔ یہ ایسا ساتھی ہے جو بات کرنے میں کسی لحاظ کو پیشِ نظر نہیں رکھتا۔ یہ کتاب ایسی مترجم ہے جو ماضی کی عقل ونقل کا ترجمہ کرتی ہے، سابقہ امتوں کے حالات اور ان کی دانائیوں کو ہم تک پہنچاتی ہے۔ وہ یادیں جنھیں دماغوں نے مار دیا ہے، یہ کتابیں انھیں زندہ کر دیتی ہیں۔ زمانے نے جن چیزوں کو پرانا کر دیا ہوتا ہے، یہ مطالعۂ کتب انھیں تازہ کر دیتا ہے۔‘‘