کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 168
وچوبند، تازہ اور زیادہ ہمت و قوت والے ہو جائیں۔ وہ اس تفریح کو اپنا مقصد بناتے تھے اور نہ بذاتِ خود یہ تفریح ان کا ہدف ہوتی تھی جس میں وہ اپنے مال اور اوقات صرف کر دیں، بلکہ اصل مقصد ’’عبادت‘‘ کے لیے تیاری اور نشاط انگیزی کا ذریعہ تھا۔ جبکہ دورِ حاضر کے مفہوم میں تفریح بالکل ایک مختلف چیز بن گئی ہے جس میں لوگوں کی ساری شخصیت ہی گھل جاتی ہے اور شرعی احکام اور اسلامی کردار کی ان کے ہاں کوئی جھلک باقی نہیں رہتی۔ یہ انداز دورِ حاضر کی پیداوار ہے جس میں تفریح کو اصل ہدف قرار دے لیا گیا ہے، لیکن اس کے بر عکس سلف صالحینِ امت کے ہاں یہ تفریح مقصد نہیں بلکہ اعلی مقصد کو پانے کا وسیلہ و ذریعہ تھی جس کے زیرِ سایہ ایک جاندار اسلامی شخصیت پروان چڑھتی ہے۔ اس تفریح کو وہ جسموں کی تقویت، اخلاق کی تہذیب اور مردانگی و سنجیدگی کی مشق سمجھتے تھے، جو ان کے سامنے علم وعمل کے نئے میدان اور نئے زاویے پیش کرے۔ وہ دوڑ کے مقابلے کرتے، جسموں کی ورزش کے لیے کشتی کرتے اور تیر اندازی کرتے تھے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی تفریح کے بعض نمونے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا اور اپنی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بھی دوڑ کا مقابلہ کیا۔[1] سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشتی کی اور انھیں چت کر دیا۔ اسی کے نتیجے میں سیدنا رکانہ مسلمان ہو گئے۔[2] ایک مرتبہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی اسلم کے پاس گئے تو ان کے لوگ تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے، آپ نے فرمایا: (( اِرْمُوْا، بَنِيْ إِسْمَاعِیْلَ! فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا )) [3] ’’اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، کیونکہ تمھارے باپ (اسماعیل علیہ السلام ) بڑے تیر انداز تھے۔‘‘ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کتاب اللہ کی تعلیم وتدریس میں اپنا غالب وقت صرف کرو، اور اگر کبھی اکتاہٹ محسوس [1] مسند أحمد (۶/ ۲۶۴) سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۵۷۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۹۷۹) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۰۷۸) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۷۸۴) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۸۹۹)