کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 166
سیر و تفریح کی ضرورت و اہمیت: سیر و تفریح، ہنسی کھیل اور راحت و آرام تھکاوٹ و پریشانی کو زائل کر دیتے، جسم میں چستی لاتے، تازہ دم ہو کر کام کرنے کی قوت میں اضافہ کرتے اور قوت میں زیادتی کا باعث بنتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں جو فرمایا گیا ہے کہ ’’کبھی وقت کسی طرح کا اور کبھی کسی طرح کا ہوتا ہے۔‘‘ اس کا معنیٰ یہ ہر گز نہیں کہ مسلمان اپنا پورا دن ہی لہو و لعب، کھیل کود، لا یعنی کود پھاند اور تماشوں یا بیہودہ و مخربِ اخلاق فلموں کے دیکھنے اور ایسے ہی مقامات پر گھومنے میں صَرف کر دے، کیونکہ یہ آدمی کے جنسی جذبات کو بھڑکاتے اور دلوں کو میلا کرتے ہیں۔ شرعی قواعد و ضوابط: عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کھیل کود اور خوش طبعی اور مزاح میں مسلمان پر کوئی حرج نہیں ہے، مگر شرط یہ ہے کہ بندہ اسے اپنی ہر وقت کی عادت ہی نہ بنا لے کہ سنجیدگی کے موقع پر بھی ہنسی مذاق ہی کر رہا ہو اور کام کے وقت بھی کھیل کود اور خوش طبعی میں لگا رہے۔‘‘ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ’’میں تمھیں وعظ و نصیحت کرنے میں ناغہ بھی کر دیا کرتا ہوں، اور یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کیا کرتے تھے، تاکہ ہم کہیں وعظ و نصیحت سے اکتا نہ جائیں۔‘‘[1] اور یہاں چھٹی دینے کا مطلب ہے موقع و مناسبت کو بدلتے رہنا۔ بعض عقلِ بیمار کے مالک لوگ اس کا مطلب یہ لے لیتے ہیں کہ ذکرِ الٰہی، سنجیدگی اور عزم و جزم کا تو تھوڑا سا وقت ہے اور لہو ولعب یا تفریح کی گھڑیوں میں بڑی وسعت ہے، اس طرح وہ مجالسِ علم اور حلقاتِ وعظ و نصیحت میں کم ہی حاضر ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ کھیل کود اور راحت و سیاحت کا کوئی قاعدہ و ضابطہ ہے اور نہ اس کے لیے کوئی خاص منہج اور طریقہ ہے۔ اس طرح یہ لوگ حدودِ شریعت کو [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۲۱)