کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 164
تیسرا خطبہ سیر و تفریح اہمیت و ضرورت اور قواعد و ضوابط امام و خطيب فضيلة الشيخ عبد الباري الثبيتي حفظه اللّٰه حمد و ثناء کے بعد: اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنے انجام (آخرت) کو یاد رکھو اور اس بات پر نظر رکھو کہ تم نے آگے کیا بھیجا ہے۔ اس دنیا کی زندگی تمھیں کہیں فریفتہ نہ کر دے، بے شک یہ متاعِ دنیا، متاعِ غرور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴾[آل عمران: ۱۰۲] ’’اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، جیسا کہ اس کا تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے، اور تمھیں موت آئے تو صرف مسلمان ہونے کی حالت میں آئے۔‘‘ آج کل سکولوں اور کالجوں کی چھٹیوں کے دن ہیں۔ ان دنوں میں بچوں کے والدین، سرپرستوں اور تربیت کرنے والوں کو دو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے: (1) سیر و تفریح اور اس کا صحیح مفہوم۔ (2) فراغت و فرصت اور اس کی پریشانیاں۔ منہجِ اسلام کی وسعتیں: اگر آپ سیدنا حنظلہ اسیدی رضی اللہ عنہ والی حدیث پڑھیں تو اسلام کے طریق و منہج کی وسعتوں پر حیران رہ جائیں گے۔ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ ان کا پورا دن بلکہ پوری زندگی ہی ایمان کے اعلیٰ مقام اور کمال کے اعلیٰ درجے پر گامزن رہے۔ انھوں نے تو یہاں تک گمان کر لیا کہ اپنی بیوی سے ہنسی کھیل، اپنے بچوں کا دل بہلانا، ان سے کھیل کود کرنا اور ان کے ساتھ