کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 161
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: ’’کان خلقہ القرآن‘‘[1] ’’آپ کا اخلاق قرآنِ کریم تھا۔‘‘ امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’قرآن کریم کے اوامر و نواہی پر عمل کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت بن گئی تھی۔ یہ چیز آپ کی فطرت میں شامل تھی کہ جس کام کا قرآن کریم میں حکم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بجا لاتے اور جس کام سے قرآن کریم نے منع کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب بھی نہ جاتے تھے۔ حیا داری، کرم و سخاوت، شجاعت و بہادری، معاف کرنا، درگزر فرمانا اور ہر قسم کا حسنِ اخلاق آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع تھا۔‘‘[2] یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے اور نبی بننے سے پہلے بھی ان لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں کوئی عیب و نقص نظر نہ آیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بھی بہت تھے، عیب چینی کے اسباب بھی وافر تھے اور ان لوگوں کی بھر پور کوشش بھی رہی مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔ جب وحی کا اچانک نزول ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا: (( لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِيْ )) فَقَالَتْ: ’’کَلَّا وَاللّٰہِ، لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَبَدًا إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ، وَتَقْرِيْ الضَّیْفَ، وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ‘‘[3] ’’مجھے تو اپنی جان کا خطرہ ہو گیا ہے۔‘‘ تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلہ رحمی کرتے ہیں، ناداروں کی مدد کرنا، مہمان نوازی کرنا اور زمانے کے ستائے ہوؤں کے ساتھ تعاون کرنا آپ کی فطرت ہے۔‘‘ بعثت و نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کا یہ عالم تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے بعثت و نبوت کے ساتھ اپنی نعمت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کی تکمیل فرما دی۔ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۴۶) [2] تفسیر ابن کثیر (۴/ ۴۰۳) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۰)