کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 158
(( أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِمَنْ یُحْرَمُ عَلَی النَّارِ أَوْ تُحْرَمُ عَلَیْہِ النَّارُ؟ تَحْرُمُ عَلٰی کُلِّ قَرِیْبٍ ھَیِّنٍ لَیِّنٍ سَھْلٍ )) [1] ’’میں تمھیں اس شخص کی خبر نہ دوں جو آگ پر حرام ہے یا جس پر آگ حرام ہے؟ ہر وہ شخص جو لوگوں کے قریب رہنے والا ہے، ان کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آتا ہے اور نرم دل اور سہل المعاملہ ہے۔‘‘ (3) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ الرِّفْقَ لَا یَکُوْنُ فِيْ شَیْیٍٔ إِلَّا زَانَہٗ، وَلَا یُنْزَعُ مِنْ شَیْیٍٔ إِلَّا شَانَہٗ )) [2] ’’رفق و نرم دلی جس چیز میں بھی ہو وہ اسے مزین کر دیتی ہے، اور جس سے یہ صفت چھن جائے اس کی زینت بھی ختم ہو جاتی ہے۔‘‘ (4) سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَ الْإِثْمُ مَا حَاکَ فِيْ صَدْرِکَ وَ کَرِھْتَ أَنْ یَّطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ )) [3] ’’حسنِ اخلاق نیکی ہے اور ہر وہ کام گناہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات سے ڈرو کہ کہیں لوگوں کو پتا نہ چل جائے۔‘‘ حسنِ اخلاق، صاحبِ اخلاق کے لیے اور اس کے معاشرے کے لیے باعثِ خیر وبرکت اور ترقی کا سبب ہے۔ یہ عنداللہ بلندیِ درجات کا باعث اور مخلوق کے دلوں میں محبت کا ذریعہ ہے۔ حسن خلق دلوں میں اطمینان و کشادگی لاتا ہے، معاملات کو آسان کرتا ہے، دنیا میں نیک نامی ہوتی ہے اور آخرت میں اچھا انجام ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بداخلاقی نحوست و بے برکتی ہے، مخلوق کے دلوں میں نفرت کے بیج بوتی ہے، دلوں میں ظلمت و اندھیرا کرتی ہے اور دنیا میں باعثِ بدبختی اور آخرت میں برے انجام کا ذریعہ ہے۔ [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۴۸۸) مسند أحمد (۱/ ۴۱۵) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۹۴) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۵۰۳)