کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 154
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (( إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیُدْرِکُ بِحُسْنِ خُلُقِہٖ دَرَجَۃَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ )) [1] ’’حسنِ اخلاق کے ذریعے سے ایک مومن دن کو روزہ رکھنے اور رات کو قیام کرنے والے کے درجے کو پالیتا ہے۔‘‘ اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَا مِنْ شَیْیٍٔ أَثْقَلُ فِيْ مِیْزَانِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ، وَإِنَّ اللّٰہَ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيْئَ )) [2] ’’قیامت کے دن مومن کے میزانِ حسنات میں اخلاقِ حسنہ سے زیادہ بھاری دوسرا کوئی عمل نہیں ہوگا، اور اللہ تعالیٰ فحش گوئی اور بد زبانی کرنے والوں سے ناراض ہوتا ہے۔‘‘ گویا اخلاقِ حسنہ تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے۔ اخلاقِ حسنہ کیا ہیں؟ شریعت اور عقلِ سلیم کی نظر میں ہر اچھی صفت اخلاقِ حسنہ کے زمرے میں آتی ہے۔ بعض اہلِ علم نے کہا ہے: ’’خیر و بھلائی کا کام کرنا اور برائی سے دست کش ہونا ہی حسنِ اخلاق ہے۔‘‘ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھلائی کرنا اور اذیت سے باز رہنا حسنِ اخلاق ہے۔ حسنِ اخلاق کی جامع تعریف یہ ہے: ’’اللہ کے حکم کردہ ہر کام کو کرنا اور اس کے منع کردہ تمام افعال سے باز رہنا، حسنِ اخلاق ہے، جیسے: اللہ کا ڈر، اخلاص، صبر، حلم و بردباری، میانہ روی، حیا، عفت و عصمت، غیرت و حمیت، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، صلہ رحمی، رحم دلی، مظلوم کی داد رسی، شجاعت و بہادری، کرم وسخاوت، صدق و سچائی، سینے کی صفائی و سلامتی، نرمی، وفا، امر بالمعروف (نیکی کا حکم دینا)، نہی عن المنکر (برائی سے روکنا)، حسنِ ہمسائیگی، تواضع و انکساری، تحمل و برداشت، [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۷۹۸) مسند أحمد (۶/ ۹۰) صحیح ابن حبان، رقم الحدیث (۴۸۰) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۷۹۹) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۰۰۲)