کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 150
دینے کے ذمہ دار ہو، کھلے عام راگ رنگ کے ظاہر ہوجانے کی خواہش رکھتے ہو، امتِ اسلامیہ کو مغربی معاشرہ بنانے کے خواب دیکھتے رہتے ہو اور اس کا اصل کردار خراب کرنا چاہتے ہو، اس ٹیڑھی فکر اور ٹیڑھی سوچ و عمل سے باز آجاؤ جس سے اللہ نے ڈرایا ہے: ﴿ یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَ یَھْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْکُمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ . وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّھَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا﴾ [النساء: ۲۶، ۲۷] ’’اللہ تمھارے لیے پہلے لوگوں کے طریقے بیان کرتا اور تمھیں ہدایت دینا چاہتا ہے، اور تمھاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے، اور جو لوگ خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ۔‘‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بشیر و نذیر اور سراجِ منیر نے فرمایا ہے: (( مَنْ دَعَا إِلٰی ھُدًی کَانَ لَہٗ مِنَ الْأَجَرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہٗ، لَا یُنْقَصُ مِنْ أُجُوْرِھِمْ شَیْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہٗ، لَا یُنْقَصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِھِمْ شَیْئًا )) [1] ’’جس نے کسی ہدایت (نیک کام) کی طرف دعوت دی، اسے اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والے لوگوں کو ملے گا، اور ان کے اجروں سے بھی کچھ کم نہ کیا جائے گا، اور جس نے گمراہی ( برے کام) کی طرف دعوت دی اسے اتنا ہی گناہ پہنچتا رہے گا جتنا اس کام کے کرنے والوں کو دیا جائے گا اور ان کے گناہ سے بھی کچھ کم نہ ہوگا۔ صحیح ایمان و عقیدہ کو مضبوطی سے تھامے رہو اور شبہات سے دور رہو۔ صحت و جوانی پر غرور نہ کرو یہ سب زائل ہو جائیں گی اور بڑھاپا آن گھیرے گا۔ اس دنیا میں تھوڑا رکنے کے بعد آخرت کی زندگی کا سفر اختیار کرنا یقینی ہے۔ آخرت کی منزل عزت افزا ہوگی یا ذلت ناک؟ اس کا تعلق عمل سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: ﴿ فَاَمَّا مَنْ طَغٰی . وَاٰثَرَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا . فَاِِنَّ الْجَحِیْمَ ھِیَ الْمَاْوٰی . وَاَمَّا [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۷۴)