کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 148
ثابت قدمی مانگیں اور اللہ سے موت و حیات کے فتنے سے پناہ طلب کریں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ دعا اتنے اہتمام سے سکھلاتے تھے، جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھلا رہے ہوں: (( اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ )) [1] ’’اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں موت و حیات کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ آپ ان لوگوں سے نہ بنیں جو اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار لیتے ہیں، اور اپنی موت کا سامان اپنے ہی ہاتھوں سے کر لیتے اور اپنے نفس کے فتنے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿ وَلاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌم بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ﴾ [صٓ: ۲۶] ’’خواہشاتِ نفس کی پیروی مت کرو، ورنہ وہ تمھیں اللہ کے راستے سے بہکا دیں گی اور جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں انھیں ( اللہ اور اس کے راستے کو) بھول جانے کی وجہ سے قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔‘‘ توبہ: گناہوں کی گٹھڑی اٹھائے پھرنے والو! لہو و لعب میں سر گرداں رہنے والو! خواہشاتِ نفس کے ہاتھوں اندھے بہرے لوگو! مولیٰ کریم کو چیلنج کرنے والے اور اس کے احکام کی نافرمانی کرنے والو! ابھی وقت ہے تائب ہو جاؤ، اللہ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓئَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا . وَ لَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۳۱۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۵۸۸)