کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 146
عَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ )) [1] ’’تم پر میری سنت اور میرے ان خلفاے راشدین کا طریقہ لازم ہے جو ہدایت یافتہ تھے۔ اسے مضبوطی سے تھامے رہو اور بدعات و محدثات سے بچو، کیونکہ ہر مُحدَث اور نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ )) [2] ’’جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز پیدا کی جو اصلاً اس میں سے نہیں تو وہ چیز مردود اور نامقبول ہے۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے: (( مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ )) [3] ’’جس نے کوئی ایسا کام کیا جو اصلاً اس دین میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘ یہ اس شخصیت کا ارشاد ہے جو اپنی مرضی سے بولتے ہی نہیں، بلکہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ انھیں وحی کیا گیا ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’ہم اقتدا کرتے ہیں، ایجاد نہیں کرتے، ہم اتباع کرتے ہیں بدعت سازی نہیں کرتے، اور جب تک ہم اسی طرح دین کو پکڑے رکھیں گے، تب تک ہم ہرگز گمراہ نہیں ہوں گے۔‘‘[4] بدعات: دورِ حاضر کی سخت تکلیف دہ چیز بدعات کا انتشار اور لوگوں کا ان کے بارے میں خاموشی کا رویہ ہے۔ لوگ نہ صرف بدعات کو برقرار رکھتے ہیں، بلکہ اہلِ بدعت کے ساتھ مداہنت اور رواداری کا سلوک کرتے ہیں، اور یہ بکثرت اسلامی ممالک میں ہو رہا ہے، جبکہ یہ بڑا قابلِ مذمت فعل اور [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۶۰۷) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۵۵۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۱۸) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۱۸) [4] أمالي ابن بشران (۹)